امن کے اعلانات کو عملی اقدامات میں بدلنا وقت کی اہم ضرورت// محبوبہ مفتی
سرینگر//یو این ایس// پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ عید سے قبل قیدیوں کی رہائی ایک اہم اعتماد سازی ہو سکتی ہے اور یہ جموں و کشمیر میں مفاہمت اور امن کی طرف پہلا قدم ثابت ہوگا۔یو این ایس کے مطابق سرینگر کے شیرِ کشمیر پارک میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کو جموں و کشمیر کے عوام کی آواز سننی چاہیے اور دیرینہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اپنانا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل صرف آئین ہند کے دائرے میں رہتے ہوئے باہمی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ بات چیت اور پرامن مکالمے کی حامی رہی ہے اور خطے میں دیرپا امن کے لیے سیاسی عمل کو بحال کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف ترقیاتی منصوبے مسائل کا حل نہیں ہو سکتے جب تک زمینی سطح پر اعتماد بحال نہ ہو۔انہوں نے پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سے بھی مثبت ردعمل کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں تعلقات کی بہتری ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں مذاکرات کی کوششیں کی گئیں لیکن دونوں جانب سے مطلوبہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔پی ڈی پی صدر نے کہا کہ وادی میں خوف اور خاموشی کا ماحول ختم ہونا چاہیے اور نوجوانوں کو عزت، امید اور مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق امن کے لیے کیے جانے والے اعلانات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے وزیر اعظم ہند سے اپیل کی کہ عید سے قبل قیدیوں کی رہائی ایک مثبت اور انسانی اقدام ہوگا جو عوام میں مفاہمت اور اعتماد کا پیغام دے گا۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر سیاسی سطح پر سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تو جموں و کشمیر نہ صرف امن کی طرف بڑھ سکتا ہے بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے ایک مثال بھی بن سکتا ہے۔










