کشمیر میں تولیدی شرح میں تیزی سے کمی

آبادیاتی ڈھانچہ تبدیل ہونے لگا،دیر سے شادیاں اور معاشی دباؤ اہم عوامل قرار

سرینگر//یو این ایس//کشمیر میں خواتین کی تولیدی صلاحیت بتدریج سکڑتی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر بچوں کی پیدائش کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق سماجی، معاشی اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں اس رجحان کی بنیادی وجوہات ہیں، جس کے باعث آئندہ برسوں میں آبادیاتی ڈھانچہ مزید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں کل تولیدی شرح کم ہو کر تقریباً 1.4 بچوں فی خاتون تک پہنچ گئی ہے، جو کہ متبادل شرح 2.1 سے کہیں کم ہے۔ شہری علاقوں میں یہ شرح مزید کم ہو کر تقریباً 1.2 جبکہ دیہی علاقوں میں 1.5 کے قریب ریکارڈ کی جا رہی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق خواتین میں شادی کی اوسط عمر 23 سے 26 سال کے درمیان ہے، جبکہ ایک بڑھتا ہوا طبقہ 30 سال کی عمر کے بعد شادی کر رہا ہے، جو تولیدی صلاحیت کے محدود ہونے کا اہم سبب بنتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی طور پر خواتین کی بہترین تولیدی عمر 18 سے 25 سال کے درمیان ہوتی ہے، جس کے بعد ہر گزرتے سال کے ساتھ حمل کے امکانات میں کمی آتی جاتی ہے۔ایک حالیہ ماہرین کی نشست میں، جس میں گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کی سابق شعبہ امراض نسواں کی سربراہ ڈاکٹر فرحت جہاں سمیت دیگر ماہرین نے شرکت کی، بتایا گیا کہ اس رجحان کی کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ سماجی اور معاشی عوامل کا مجموعی اثر ہے۔ماہرین کے مطابق تعلیم، روزگار اور مالی خودمختاری کے حصول کے باعث خواتین دیر سے شادی کو ترجیح دے رہی ہیں، جبکہ معاشی غیر یقینی صورتحال اور مہنگی شادیوں کے اخراجات بھی خاندان شروع کرنے میں تاخیر کا باعث بن رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بے روزگاری اور مالی دباؤ نے بھی نوجوان جوڑوں کو محدود خاندان رکھنے پر مجبور کیا ہے، جس کے نتیجے میں اکثر خاندان ایک یا دو بچوں تک محدود ہو رہے ہیں۔ماہرین نے یہ بھی کہا کہ شہری طرزِ زندگی اور نیوکلیئر فیملی سسٹم نے روایتی خاندانی سپورٹ سسٹم کو کمزور کیا ہے، جس سے بچوں کی پرورش مزید مہنگی اور مشکل ہو گئی ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو آئندہ برسوں میں آبادی کی رفتار سست ہونے کے ساتھ ساتھ افرادی قوت میں کمی، عمر رسیدہ آبادی میں اضافہ اور معیشت پر دباؤ جیسے چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ خواتین کی تعلیم اور صحت میں بہتری ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم تولیدی شرح میں تیز کمی ایک ایسا رجحان ہے جس پر فوری پالیسی سطح پر غور کی ضرورت ہے۔