دراریں پڑنے سے حادثے کا خدشہ، ٹریفک نظام متاثر
سرینگر//یو این ایس//شمالی کشمیر میں سوپور کو کپواڑہ اور ہندواڑہ سے جوڑنے والا ایک اہم پل خستہ حالی کا شکار ہو گیا ہے جس کے باعث مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے جبکہ ٹریفک نظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس پل سے روزانہ مسافر گاڑیوں، ٹرکوں اور پھلوں سے لدے ٹرالروں کی بھاری آمدورفت رہتی ہے، تاہم گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے پل کی حالت ابتر بنی ہوئی ہے اور متعدد اپیلوں کے باوجود مرمتی کام شروع نہیں کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق لوگوں کا کہنا ہے کہ پل کی بگڑتی حالت خاص طور پر پھلوں کے سیزن میں مسافروں اور ڈرائیوروں کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔ سوپور میں ایشیا کی بڑی فروٹ منڈی قائم ہونے کے باعث اس راستے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ فصل کے موسم میں سینکڑوں مال بردار گاڑیاں اسی پل سے گزرتی ہیں۔مقامی باشندوں کے مطابق پل میں نمایاں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور اس کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے جس کے باعث کسی بڑے حادثے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ایک مقامی شہری محمد شفیع نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ پل کی حالت مزید خراب ہو رہی ہے جبکہ متعلقہ حکام ضروری مرمت کی طرف توجہ نہیں دے رہے۔انہوں نے کہا، ’’یہ پل عوام کیلئے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ کافی عرصے سے یہی صورتحال ہے لیکن مرمت نہیں کی جا رہی۔ حال ہی میں یہاں لائٹس نصب کی گئیں جبکہ اصل ضرورت پل کی مرمت تھی۔ پل کے درمیانی حصے کی حالت خود اس کی سنگینی ظاہر کرتی ہے۔‘‘سمیراحمد نامی ایک اور شہری نے کہا کہ لوگ پل عبور کرتے وقت خوف محسوس کرتے ہیں اور کئی مسافروں نے متبادل راستے اختیار کرنا شروع کر دیے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’اس پل پر ٹریفک کا بے حد دباؤ ہے۔ لوگوں کو اپنی جان کا خوف لاحق ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ کہیں پل گر نہ جائے۔‘‘مقامی لوگوں نے خبردار کیا کہ یہ پل ہزاروں افراد کیلئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو کوئی بڑا سانحہ پیش آ سکتا ہے۔ایک اور شہری محمد عرفان نے انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بنیادی شہری مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا، ’’عوام سے بڑے بڑے وعدے کئے گئے تھے، منشور دکھائے گئے، لیکن اب سب کچھ فراموش کر دیا گیا ہے۔ ہم انتظامیہ اور اراکین اسمبلی سے اپیل کرتے ہیں کہ سڑکوں اور پلوں کی خستہ حالی کا نوٹس لیا جائے۔‘‘










