وزیر داخلہ نے کہابھارت کا ڈیزاسٹر مینجمنٹ ماڈل عالمی سطح پر تسلیم شدہ

حرارتی تپش کے دوران صفر اموات کے ہدف کیلئے پیشگی حکمت عملی،، مرکزی نیم فوجی دستوں نے 7 کروڑ درخت لگائے//امت شاہ

سرینگر// یو این ایس// مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ بھارت نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے عالمی سطح پر ایک مضبوط اور مؤثر نظام قائم کیا ہے، جس کا بنیادی ہدف قدرتی آفات کے دوران جانی نقصان کو زیرو تک لانا ہے۔ یہ بات مرکزی وزیر داخلہ و کوآپریشن امیت شاہ نے جمعرات کو غازی آباد میں نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کی ’’پریزیڈنٹس کلر ایوارڈ‘‘ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔یو این ایس کے مطابق امت شاہ نے کہا کہ حکومت ہند کا ڈیزاسٹر مینجمنٹ ماڈل اب ردعمل پر مبنی نظام سے آگے بڑھ کر پیشگی تیاری، خطرات کی نشاندہی اور مؤثر حکمت عملی پر مبنی ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی وزیر اعظم نریندر مودی کے 10 نکاتی ایجنڈے اور 360 ڈگری اپروچ کے تحت ممکن ہوئی ہے، جس نے ملک کے ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ نظام کو نئی سمت دی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا بنیادی ہدف اب ’’زیرو کڑوالٹی‘‘ اور کم سے کم مالی نقصان کو یقینی بنانا ہے، چاہے وہ سیلاب ہوں، زلزلے ہوں، سائیکلونز ہوں یا ہیٹ ویوز۔ ان کے مطابق وزارت داخلہ نے ہیٹ ویو جیسے خطرناک موسمی حالات سے نمٹنے کیلئے خصوصی منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے ذریعے آئندہ برسوں میں اموات کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔وزیر داخلہ نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور این ڈی آر ایف کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اداروں نے بھارت کو عالمی سطح پر ڈیزاسٹر ریسپانس کے میدان میں قائدانہ مقام دلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارت دنیا کے لیے نہ صرف ایک مضبوط ماڈل ہے بلکہ ’’فرسٹ ریسپانڈر‘‘ کے طور پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔امت شاہ نے کہا کہ ’این ڈی آر ایف‘کو دیا گیا ’’پریزیڈنٹس کلر ایوارڈ‘‘ صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں اس فورس نے غیر معمولی پیشہ ورانہ کارکردگی، قربانی اور لگن کا مظاہرہ کیا ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 20 سال کے دوران این ڈی آرت ایف نے قدرتی آفات کے دوران متاثرہ علاقوں میں بروقت کارروائیاں کرتے ہوئے عوام کا اعتماد حاصل کیا ہے۔ ان کے مطابق فورس نے اب تک 1.5 لاکھ سے زائد جانیں بچائی ہیں اور 9 لاکھ سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ این ڈی آر ایف کی کامیابی صرف ریسکیو آپریشنز تک محدود نہیں بلکہ اس نے جانوروں کو بچانے، کمیونٹی کو تربیت دینے اور مقامی سطح پر تیاری کے نظام کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فورس کی 16 بٹالینز پورے ملک میں فعال ہیں اور ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔امت شاہ نے کہا کہ مرکزی مسلح پولیس فورسز کے اہلکاروں نے ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے بھی قابل قدر کردار ادا کیا ہے اور اب تک ملک بھر میں 7 کروڑ سے زائد درخت لگائے جا چکے ہیں، جو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے میں اہم سنگ میل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو صرف امدادی کارروائیوں تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مکمل نظام میں تبدیل کر دیا ہے، جس میں پیشگی وارننگ سسٹمز، کمیونٹی ٹریننگ، خطرات کی نقشہ سازی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی شامل ہے۔یو این ایس کے مطابق امت شاہ نے کہا کہ بھارت نے ماضی میں اوڈیشہ سائیکلون، گجرات زلزلہ اور بحر ہند سونامی جیسے بڑے سانحات سے سیکھتے ہوئے ایک مضبوط ڈھانچہ تشکیل دیا ہے، جس نے آج ملک کو عالمی سطح پر ایک مثال بنا دیا ہے۔این ڈی آر ایف کے ڈائریکٹر جنرل پیوش آنند نے اس موقع پر بتایا کہ فورس اپنے قیام کے بعد سے اب تک 12 ہزار سے زائد ریسکیو اور ریلیف آپریشنز انجام دے چکی ہے، جبکہ اس کی تربیتی سرگرمیوں کے ذریعے ہزاروں اہلکاروں اور رضاکاروں کو تیار کیا گیا ہے۔