جموں و کشمیر میں جدید مشینیں برسوں سے غیر فعال یا محدود استعمال کا شکار
سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر میں غذائی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کیلئے کروڑوں روپے خرچ کرکے نصب کی گئی جدید فوڈ ٹیسٹنگ مشینری برسوں بعد بھی مکمل طور پر فعال نہ ہو سکی، جس سے سرکاری سرمایہ کے ضیاع اور عوامی صحت کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کی ’’اسٹرینتھننگ آف فوڈ ٹیسٹنگ سسٹم‘‘ اسکیم کے تحت 2017 میں جموں و کشمیر کی ریاستی فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کو جدید بنانے کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت تقریباً 10 سے 13.90 کروڑ روپے تک کی مالی معاونت فراہم کی گئی، جس میں صرف تین اہم اور جدید مشینوں — ایل سی-ایم ایس/ایم ایس، جی سی-ایم ایس/ایم ایس اور آئی سی پی-ایم ایس — کی خریداری پر 8.45 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔یو این ایس کے مطابق اس کے علاوہ لیبارٹری انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے تقریباً 50 لاکھ روپے بھی مختص کیے گئے تھے۔ یہ سہولتیں پبلک ہیلتھ لیبارٹری پٹولی جموں اور پبلک ہیلتھ لیبارٹری ڈلگیٹ سری نگر کیلئے منظور کی گئی تھیں۔ایف ایس ایس اے آئی کی 2018 سے 2022 تک کی رپورٹس کے مطابق ابتدائی گرانٹس، تزئین و آرائش کیلئے فنڈز اور بعد میں پانچ سے ساڑھے پانچ کروڑ روپے تک کی قسطیں جاری کی گئیں جبکہ مشینوں کی تنصیب اگلے برس مکمل ہوئی۔یہ جدید آلات غذائی اشیاء میں مضر کیمیکلز، جراثیم کش ادویات کے اثرات، بھاری دھاتوں، اینٹی بائیوٹک باقیات، مائیکوٹاکسنز اور ملاوٹ کی باریک ترین سطح پر نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بڑھتے سرطان کے معاملات اور غذائی اشیاء میں غیر معیاری اضافی مادوں کی شکایات کے تناظر میں یہ سہولتیں جموں و کشمیر میں فوڈ سیفٹی نگرانی کیلئے نہایت اہم تھیں۔تاہم، زمینی سطح پر یہ منصوبہ اپنی افادیت ثابت کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جدید مشینری یا تو مکمل طور پر غیر فعال ہے یا پھر انتہائی محدود پیمانے پر استعمال کی جا رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق ایف ایس ایس اے آئی کی 2019 کی ایک مطالعاتی رپورٹ میں ملک بھر کی ریاستی لیبارٹریوں میں کئی بنیادی خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، جن میں درآمد شدہ مشینوں کے سالانہ مینٹیننس معاہدوں کی بھاری لاگت اور تربیت یافتہ ماہر عملے کی کمی نمایاں مسائل قرار دیے گئے تھے۔جموں و کشمیر میں صورتحال مزید سنگین اس لیے ہے کیونکہ متعلقہ محکمے میں تکنیکی عملے کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ٹیکنیشنز کی 19 منظور شدہ آسامیوں میں سے 11 خالی ہیں جبکہ موجود عملہ بھی جدید مشینری چلانے کی مکمل تربیت نہیں رکھتا۔ذرائع کے مطابق ان ہائی ٹیک لیبارٹریوں کو چلانے کیلئے نہ صرف خصوصی تربیت یافتہ ماہرین درکار ہوتے ہیں بلکہ مسلسل تکنیکی نگرانی، کیلیبریشن، مینٹیننس اور معاون انفراسٹرکچر بھی ضروری ہوتا ہے، تاہم ان پہلوؤں کو برسوں سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔محکمہ صحت و طبی تعلیم کے ایک سینئر افسر نے اعتراف کیا کہ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی اسی نوعیت کی کئی لیبارٹریوں میں جدید آلات تربیت یافتہ تجزیہ کاروں کی کمی کے باعث غیر استعمال شدہ پڑے ہیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں یہ مسئلہ صرف مالی نقصان تک محدود نہیں بلکہ یہ غذائی تحفظ کے نفاذ میں ایک سنگین خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے مطابق مناسب پالیسی، مستقل فنڈنگ، مینٹیننس سپورٹ اور تکنیکی عملے کی عدم دستیابی نے اس پورے نظام کو کمزور کر دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان لیبارٹریوں کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے تو نہ صرف ملاوٹ اور مضر غذائی اشیاء کی مؤثر نگرانی ممکن ہوگی بلکہ عوامی صحت کے تحفظ، سرطان جیسے امراض کی روک تھام اور فوڈ مارکیٹ میں جوابدہی کو بھی مضبوط بنایا جا سکے گا۔










