لیفٹیننٹ گورنر نے 69 دنوں کیلئے مہم کے تحت دو جدید اقدامات ’منشیات کے خلاف کمیونٹی امیونائزیشن پروگرام اور فیملی فورٹریس انیشی ایٹیو‘ کے آغاز کا بھی اعلان کیا
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منو ج سِنہانے بارہمولہ میں ’منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم ‘میں شرکت کی، شہریوں سے ملاقات کی اور’ پدیاترا ‘میں حصہ لیا۔ اُنہوں نے اِس موقعہ پر آئندہ 69 دِنوں کے لئے مہم کے تحت دو جدید اقدامات ’منشیات کے خلاف کمیونٹی امیونائزیشن پروگرام اور فیملی فورٹریس انیشی ایٹیو‘ کے آغاز کا بھی اعلان کیا۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ہم نے لوگوں کو بیکٹیریا یا وائرس سے بچاؤ کے لئے ویکسی نیشن کی تعلیم دِی ہے، اسی طرح ہم مذہبی رہنماؤں اور سماجی تنظیموں کے ساتھ مل کر ہر ضلع کے 5 سے 10 ہائی رسک علاقوں میں منشیات کے خلاف کمیونٹی امیونائزیشن اَقدام تشکیل دیں گے۔اُنہوں نے کہا،’’میں سکولوں، مساجد، مندروں، گوردواروں اور این جی اوز سے اپیل کرتاہوں کہ وہ اس اَقدام کو بیداری کے ذریعے مضبوط بنانے کے لئے ہفتہ وار ایک گھنٹہ وقف کریں۔ یہ اَقدام اِبتدائی انتباہی نظام کی طرح کام کرتے ہوئے مؤثر نتائج دے گا، حساس علاقوں کی نگرانی کرے گا اور انہیں مکمل طور پر منشیات سے پاک زونوں میں تبدیل کرے گا۔‘‘لیفٹیننٹ گورنرنے مزید کہا کہ دوسرا اَقدام’’فیملی فورٹریس انیشی ایٹیو‘‘ہے جو منشیات کی لت کے خلاف حفاظتی ڈھال کے طور پر مضبوط فیملی اور کمیونٹی روابط پر انحصار کرے گا۔اُنہوں نے کہا،’’اگلے 69 دنوں میں جموں و کشمیر کے ہرسکول، کالج اور عبادت گاہ کو منشیات کے موضوع پر ہفتہ وار فیملی ڈائیلاگ منعقدکرناچاہیے۔ یہ مکالمے کھلے اور دیانت دارانہ ہونے چاہئیںتاکہ مقامی مہم کے آڈِٹ کے ساتھ خامیوں کو دُور کیا جاسکے۔‘‘ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ 31 دِنوں میں جموں و کشمیر بھر میں زائد اَز2,35,000 بیداری اور عوامی رسائی تقریبات منعقد کی گئی ہیں۔زائد اَز 44 ہزار او پی ڈِی مریضوں کا علاج کیا گیاہے، تقریباً 700 منشیات فروشوں اور سمگلروں کو گرفتار کیا گیاہے اور منشیات کی سپلائی چین کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے۔منوج سِنہا نے کہا، ’’ منشیات کے کارٹیلوں کی ہر مالی لین دین کو نشانہ بنایا گیا ہے اور منشیات کی رقم سے بنائی گئی کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادیں قرق کی گئی ہیں۔ جموں وکشمیر کے دونوں صوبوںمیں منشیات فروشوں سے وابستہ 300 ڈرائیونگ لائسنس اورزائد اَز 400 گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ قانون عملانے والے اِداروں نے بڑے پیمانے میں منشیات برآمد کی ہیں۔زائد اَز 3,300 میڈیکل سٹوروں کا معائینہ کیا گیا جبکہ قواعد کی خلاف ورزی پر 150 لائسنس معطل کئے گئے ہیں۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا،’’یونین ٹیریٹری بھر کے میڈیکل سٹوروں میں تقریباً 3,000 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جا چکے ہیں۔ پی آئی ٹی ۔ این ڈِی پی ایس ایکٹ کے تحت دو درجن سے زائد سمگلروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ میںلوگوں کو یقین دِلاتا ہوں کہ ہم منشیات فروشوں کی ہر رقم، ہر جائیداد اور ہرشیل کمپنی کا تعاقب کریں گے اور نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرنے والوں کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ عوامی تعاون سے یہ عوامی تحریک جموں و کشمیر میں تاریخی ریکارڈ قائم کر رہی ہے اور ماضی میں کسی بھی سماجی مہم میں اتنی بڑی عوامی شرکت دیکھنے کو نہیں ملی۔اُنہوں نے کہا،’’گزشتہ 31 دِنوں کے دوران ٹیلی مانس کونسلنگ اور مدد کے لئے تقریباً 3,000 کالز موصول ہوئی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ منشیات کے خلاف ہمارا ردِّعمل سائنسی بنیادوں پر ہو۔ ہم ذیابیطس کے مریضوں کو صحت کے لئے شرمندہ نہیں کرتے اور نہ ہی کینسر کے مریضوں کو بدنامی سے ٹھیک کرتے ہیں۔ اسی طرح منشیات کے عادی اَفراد کے ساتھ عزت و وقار سے پیش آنا ہوگا اور عزم و ہمدردی کے ساتھ انہیں دوبارہ معاشرے کے مرکزی دھارے سے جوڑنا ہوگا۔ سرکاری اَفسران اور عوام کو نگرانی، منشیات کے خلاف جدوجہد اور منشیات سے پاک دیہات و قصبے قائم کرنے کے لئے متحد ہونا ہوگا۔‘‘










