لیفٹیننٹ گورنر نے بارہمولہ میں سرحدی گائوں اورن بووا کا دورہ کیا

کہا،وزیر اعظم نریندری مودی جی کی قیادت میں سرحد ی دیہات کی دہلی سے دُوری کم ہوئی ہے ۔ یہ مرکزی حکو مت کا عزم ہے کہ سرحدی گائوںجامع ترقی کی علامت بنیں

سری نگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے بارہمولہ کے وائبرنٹ وِلیج ارون بووا کا دورہ کیا اور اُنہوں نے وہاںجاری منصوبوں کا جائزہ لیا اور عوامی اِجتماع سے خطاب کیا۔ اُنہوںنے کہا،’’ہمارے سرحدی گائوںکے لوگ بالخصوص کسان، نوجوان اور خواتین، ملک کی خدمت میں غیر معمولی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ وزیراعظم نریندر مودی جی کی قیادت میں سرحدی دیہات کی دہلی سے دوری کم ہوئی ہے۔ یہ گائوں ترقی کے مرکزی دھارے سے جڑ چکے ہیں اور مرکزی حکومت کا یہ عزم ہے کہ سرحدی گاؤں جامع ترقی کی علامت بنیں۔یہ بات قابل ذِکر ہے کہ وائبرنٹ وِلیج پروگرام کے تحت مرکزی حکومت نے منتخب سرحدی گائوں میں جامع ترقی کے لئے ایک منظم اقدام شروع کیا ہے ۔ اِس پروگرام کے چار بنیادی شعبے ہیں جو سرحدی علاقوں میں ایک نئے دور کی بنیاد رکھیں گے۔ ان میں ہر موسم میں سڑک رابطہ، گھریلو بجلی فراہمی، ٹیلی کام رابطہ اور ٹیلی ویژن کنکٹویٹی شامل ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’میرا پختہ یقین ہے کہ سڑکیںنئے امکانات کے دروازے کھولتی ہیں۔ وائبرنٹ وِلیجز پروگرام کے تحت شامل تمام 18 گائوں اب ہر موسم میں قابلِ استعمال سڑکوں سے جڑ چکے ہیں۔ بارہمولہ کے تمام 83 سرحدی گائوں کو آپس میںملانے کاعمل تیز کیا گیا ہے اور بہت جلد جموں و کشمیر کا ہر سرحدی گاؤں معاشی مرکزی دھارے میں شامل ہوجائے گا اور ملک کے دیگر اہم شہروں سے منسلک ہوگا۔ 2019 سے پہلے ان 18 اہم سرحدی گاؤں میں ٹیلی کام اور ڈیجیٹل کوریج 40 فیصد سے بھی کم تھے۔ وزیر اعظم کی قیادت میں ہم نے ان تمام اہم مقامات پر صد فیصد 4جی اور 5 جی کنکٹویٹی یقینی بنایا ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے سرحدی دیہات کے باشندوں کو یقین دِلایا کہ ڈیجیٹل انقلاب صرف شہروں تک محدود نہیں رہے گا اور اِنتظامیہ ہر سرحدی بستی تک مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور قابلِ اعتماد موبائل و انٹرنیٹ خدمات پہنچانے کے لئے پُر عزم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ نوجوانوں اور خواتین کو بااِختیار بنایا جا رہا ہے اور سرحدی علاقوں میں خوشحال معاشرے کے لئے کاروباری صلاحیت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔اُنہوںنے اِس بات کا اعادہ کیا کہ اِنتظامیہ تین اہم نکات شرحِ خواندگی میں بہتری، اِقتصادی ترقی کو یقینی بنانا اور اورن بووا جیسے دیہات کے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ سرحدی علاقوں کے نوجوانوں اور خواتین کو اَب خود روزگار کے مواقع حاصل ہیں، تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے نئی نسل کو پیشہ ورانہ تربیت مل رہی ہے جبکہ سرحدی سیاحت، زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں نئی اِنقلابی تبدیلیوں نے تمام 18 اہم گائوں میں خوشحالی کی نئی لہر پیدا کی ہے۔‘‘اُنہوں نے وائبرنٹ ولیجز پروگرام-مرحلہ دوم کے تحت 83 وائبرنٹ گائوں میں مختلف شعبوں کے تحت 94 کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں اور کلیدی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا اِفتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا۔ اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنرنے ایس پی اوز کو تقرری نامے، طلبأ کو کمپیوٹر ٹیبلٹ اور گاؤں کے مختلف نوجوانوں اور ایچ اے ڈِی پی ، مشن یووا اور دیگر سکیموں کے مستفید ین کو منظوری نامے بھی تقسیم کئے۔ اُنہوں نے بی ایس ایف کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی ایس پی اے این ڈِی اے این(سپیندن) لیگ 2026، نارتھ کشمیر فٹ بال چمپئن شپ کی جرسی اور ٹرافی کی بھی رسم رونمائی کی۔اِس موقعہ پر ممبر اسمبلی اوڑی سجاد شفیع،ڈِی جی پی نلین پربھات،سپیشل ڈی جی کوآرڈی نیشن پی ایچ کیو ایس جے ایم گیلانی، کمشنر سیکرٹری سماجی بہبود سرمد حفیظ ، آئی جی پی کشمیر وی کے بردی،صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ،ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ سید فخرالدین حامد، بی ایس ایف، پولیس اور سول اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران،ممتاز شہری اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔