supreme court

نوعمروں اور بالغ افراد کو آدھار جاری کرنے کا معاملہ

سپریم کورٹ 4 مئی کو سخت رہنما اصولوں سے متعلق عرضی کی سماعت کرے گی

سرینگر/// یو این ایس / سپریم کورٹ پیر کے روز ایک ایسی عرضی پر سماعت کرنے جا رہی ہے جس میں یونیک آئیڈینٹیفکیشن اتھارٹی آف انڈیا (UIDAI) کو ہدایت دینے کی درخواست کی گئی ہے کہ نئے آدھار کارڈ صرف چھ سال تک کی عمر کے بچوں کو جاری کیے جائیں، اور نوعمروں و بالغ افراد کے لیے اس کے اجرا کے سخت رہنما اصول وضع کیے جائیں تاکہ درانداز افراد خود کو بھارتی شہری ظاہر نہ کر سکیں۔سپریم کورٹ کی 4 مئی کی کاز لسٹ کے مطابق، اس عرضی کی سماعت چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا بگچی پر مشتمل بنچ کے سامنے ہوگی۔یہ مفادِ عامہ کی عرضی (PIL)، جو وکیل اشونی اپادھیائے کی جانب سے دائر کی گئی ہے، میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکام کامن سروس سینٹرز پر ایسے بورڈز نصب کریں جن پر واضح طور پر درج ہو کہ 12 ہندسوں پر مشتمل منفرد شناختی نمبر صرف ’’شناخت کا ثبوت‘‘ ہے، نہ کہ شہریت، پتہ یا تاریخِ پیدائش کا ثبوت۔ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے علاوہ، اس عرضی میں یو آئی ڈی اے آئی ( جو آدھار جاری کرنے والا ادارہ ہے) اور مرکزی وزارت داخلہ، قانون و انصاف، اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ایڈووکیٹ اشوانی دوبے کے ذریعے دائر اس عرضی میں کہا گیا ہے کہ آدھار، جسے ابتدا میں صرف شناخت کے ثبوت کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، اب ایک ’’بنیادی دستاویز‘‘بن چکا ہے جس کے ذریعے افراد دیگر شناختی دستاویزات جیسے راشن کارڈ، ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اور ووٹر آئی ڈی کارڈ حاصل کر لیتے ہیں۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ یو آئی ڈی اے آئی نے 144 کروڑ آدھار جاری کیے ہیں اور 99 فیصد بھارتیوں کا اندراج ہو چکا ہے۔ اس لیے درخواست گزار آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت یہ مفادِ عامہ کی عرضی دائر کر رہا ہے تاکہ یو آئی ڈی اے آئی کو ہدایت دی جائے کہ نئے آدھار صرف بچوں کو جاری کیے جائیں اور نوعمروں و بالغ افراد کے لیے سخت رہنما اصول بنائے جائیں، تاکہ درانداز افراد اسے حاصل کر کے خود کو بھارتی شہری ظاہر نہ کر سکیں۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ درخواست اس وقت دائر کرنے کی ضرورت پیش آئی جب درخواست گزار کو معلوم ہوا کہ درانداز افراد کمزور اور آسانی سے متاثر ہونے والے تصدیقی نظام کے ذریعے آدھار حاصل کر لیتے ہیں۔‘غیر ملکی افرا’فارین’‘زمرے کے تحت آدھار کے لیے درخواست دیتے ہیں، لیکن درانداز افراد ’بھارتی شہری‘ کے زمرے میں درخواست دے کر آسانی سے آدھار حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ راشن کارڈ، پیدائش اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، ڈرائیونگ لائسنس وغیرہ حاصل کر لیتے ہیں، اور عملاً بھارتی شہریوں سے الگ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔دیگر ہدایات کے علاوہ، عرضی میں قانونی سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں، جن میں یہ شامل ہے کہ آیا آدھار ایکٹ 2016 وقت کے تقاضوں کے مطابق نہیں رہا اور کیا وہ غیر ملکیوں اور بھارتی شہریوں میں فرق کرنے کے قانون ساز مقصد کو پورا کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ آدھار کے مبینہ غلط استعمال سے ہدفی فلاحی اسکیموں کی ترسیل متاثر ہوتی ہے اور عوامی وسائل کے غلط استعمال کا سبب بنتا ہے۔