تاریخی دربار موو روایت کے تسلسل میں آج سے سرکاری دفاتر سری نگر میں کھلیں گے

سیول سیکریٹریٹ پیر سے سرینگر میں ہوگا فعال،اہم ریکارڈ اور عملہ پہلے ہی گرمائی دارالحکومت منتقل

سرینگر/// یو این ایس/ جموں و کشمیر میں نصف سالہ دربار موو کا عمل سخت سکیورٹی حصار میں کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے اور سول سیکرٹریٹ سمیت تمام منتقل شدہ سرکاری دفاتر پیر، 4 مئی سے سری نگر میں باضابطہ طور پر کام کاج شروع کریں گے۔ اس موقع پر وادی میں ہائی الرٹ سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ سرکاری سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔یو این ایس کے مطابق دربار موو کے تحت ملازمین، افسران اور اہم سرکاری ریکارڈ پر مشتمل قافلے جمعہ کے روز جموں کے سول سیکرٹریٹ سے روانہ ہوئے اور مرحلہ وار طریقے سے سری نگر پہنچے۔ حکام نے بتایا کہ قافلے میں خصوصی جے کے ایس آر ٹی سی بسوں کے علاوہ ضروری سامان کی منتقلی کے لیے دیگر گاڑیاں بھی شامل تھیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کرین، موبائل ورکشاپس اور اضافی بسیں بھی ساتھ رکھی گئی تھیں۔دربار موو کے لیے سرکاری دفاتر کی بندش کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا تھا، جس کے تحت پانچ روزہ ہفتہ والے دفاتر 30 اپریل کو جبکہ چھ روزہ ہفتہ والے دفاتر 2 مئی کو بند کیے گئے۔ اس کے بعد عملے کی منتقلی کا مرحلہ شروع ہوا، جس میں ہر دفتر کے تقریباً 33 فیصد ملازمین یا کم از کم 10 اہلکاروں کو سری نگر منتقل کیا گیا تاکہ ضروری سرکاری امور جاری رہ سکیں۔سکیورٹی کے حوالے سے جموں،سری نگر قومی شاہراہ پر غیر معمولی انتظامات دیکھنے میں آئے۔ پولیس، نیم فوجی دستوں، کوئیک رسپانس ٹیموں اور ڈاگ اسکواڈز کو مختلف حساس مقامات پر تعینات کیا گیا تھا، جبکہ قافلے کو ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی ٹنل اور بانہال،قاضی گنڈ ٹنل پر ترجیحی بنیادوں پر گزارا گیا۔ حکام کے مطابق پورے راستے میں قافلے کی سخت نگرانی کی گئی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔سفر کے دوران ملازمین کی سہولت کے لیے جھجر کوٹلی، ادھم پور، چنانی، رامبن، رامسو، بانہال اور قاضی گنڈ میں خصوصی طبی مراکز قائم کیے گئے تھے، جہاں ہنگامی طبی امداد کی سہولت فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ سکیورٹی ایجنسیوں نے راستے بھر نگرانی کے لیے اضافی نفری تعینات رکھی۔دربار موو کی روایت تاریخی طور پر ڈوگرہ دور حکومت میں مہاراجہ رنبیر سنگھ کے زمانے میں شروع کی گئی تھی، جس کا مقصد موسم کے مطابق انتظامی دارالحکومت کو جموں اور سری نگر کے درمیان منتقل کرنا تھا۔ اگرچہ جدید دور میں اس روایت پر کئی بار سوالات اٹھائے گئے اور کچھ عرصہ کے لیے اسے معطل بھی رکھا گیا، تاہم گزشتہ برس اسے دوبارہ محدود پیمانے پر بحال کیا گیا اور اب یہ سلسلہ جاری ہے۔حکام کے مطابق دربار موو میں شامل ملازمین کو 25 ہزار روپے خصوصی سفری الاؤنس فراہم کیا گیا ہے، جبکہ غیر گزٹڈ ملازمین کو پیشگی تنخواہ کی سہولت بھی دی گئی ہے جو بعد میں اقساط میں وصول کی جائے گی۔ اپریل 2026 کی تنخواہیں پیشگی طور پر جاری کر دی گئی تھیں اور جموں میں مقیم ملازمین کو تین دن کی خصوصی رخصت بھی دی گئی۔دربار موو کے بعد جموں میں جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی نگرانی میں سمر سیکرٹریٹ قائم کیا گیا ہے تاکہ وہاں بھی محدود سطح پر انتظامی امور جاری رہ سکیں۔ دوسری جانب سری نگر میں دفاتر کے کھلنے کے پیش نظر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور حساس مقامات پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پیر سے دفاتر کے باضابطہ طور پر کھلنے کے بعد عوامی خدمات پوری طرح بحال ہو جائیں گی اور شہریوں کو سرکاری امور کے سلسلے میں سہولیات میسر آئیں گی، جبکہ سکیورٹی کے سخت انتظامات کے بیچ نظام کو مؤثر اور بلا رکاوٹ چلانے کو یقینی بنایا جائے گا۔