Groundwater monitoring targets in Jammu and Kashmir incomplete

جموں و کشمیر میں زیرِ زمین پانی کی نگرانی کے اہداف نا مکمل

ڈیم سیفٹی، فلڈ مینجمنٹ اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام میں خامیوں کی نشاندہی// پارلیمانی کمیٹی رپورٹ

سرینگر/ یو این ایس// آبی وسائل پر پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں زیرِ زمین پانی (گراؤنڈ واٹر) کی نگرانی کے کئی اہم اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے، جبکہ پانی کی آلودگی اور ڈیموں کی حفاظتی تیاریوں کے حوالے سے بھی خدشات برقرار ہیں۔یو این ایس کے مطابق رپورٹ کے مطابق یونین ٹیریٹری میں 95 گراؤنڈ واٹر مانیٹرنگ یونٹس کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم صرف 75 یونٹ ہی قائم کیے جا سکے، جس سے نگرانی کے نظام میں نمایاں کمی ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح جیو فزیکل سروے کے شعبے میں بھی 325 کے ہدف کے مقابلے میں صرف 285 سروے مکمل کیے گئے، جو مشکل جغرافیائی حالات میں ڈیٹا اکٹھا کرنے کی رکاوٹوں کی نشاندہی کرتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں پانی کی سطح کی نگرانی کے لیے کل 236 اسٹیشنز موجود ہیں، جو خطے کے پیچیدہ جغرافیے کے پیش نظر ناکافی تصور کیے جا رہے ہیں۔پانی کے معیار کے حوالے سے رپورٹ میں ملے جلے رجحانات سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ کسی بھی نمونے میں الیکٹریکل کنڈکٹویٹی یا فلورائیڈ کی سطح مقررہ حد سے تجاوز نہیں کر پائی، تاہم تقریباً 9.31 فیصد نمونوں میں نائٹریٹ کی مقدار حد سے زیادہ پائی گئی، جبکہ 11.76 فیصد نمونوں میں آرسینک آلودگی کا انکشاف ہوا۔ اس کے علاوہ بعض علاقوں میں آئرن کی آلودگی بھی ریکارڈ کی گئی، جو مقامی سطح پر پانی کے معیار کے مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔رپورٹ میں ضلع سطح پر آلودگی کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے کئی علاقوں میں نائٹریٹ اور بھاری دھاتوں کی آلودگی جزوی طور پر موجود ہے، جو بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔انفراسٹرکچر کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یونین ٹیریٹری میں نو بڑے ڈیم موجود ہیں، تاہم صرف آٹھ ڈیموں کے ڈیزائن فلڈ ڈیٹا کو قومی پورٹل پر اپ ڈیٹ کیا گیا ہے، جبکہ صرف دو ڈیموں کا فلڈ اسسمنٹ از سرِ نو کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال موسمیاتی تبدیلی اور شدید موسمی واقعات کے تناظر میں خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔ہائیڈرو پاور منصوبوں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشن گنگا جیسے منصوبے فعال ہیں اور ان میں ابتدائی وارننگ سسٹم نصب ہیں، جبکہ پاکل ڈل اور کیرو جیسے زیرِ تعمیر منصوبوں میں بھی اسی نوعیت کے حفاظتی اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اپر سندھ-II منصوبہ ابھی ان نظاموں کی تنصیب کے مرحلے میں ہے۔رپورٹ میں ڈیجیٹل واٹر لیول ریکارڈرز کی تنصیب میں تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے اور متعلقہ وزارت کو ہدایت دی گئی ہے کہ حساس اور پانی کی قلت کے شکار علاقوں میں ان نظاموں کی تنصیب کو تیز کیا جائے۔مرکزی آبی کمیشن نے ہمالیائی خطوں میں گلیشیائی جھیلوں کو ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گلیشیئر پگھلنے سے بننے والی یہ جھیلیں اچانک سیلاب (گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ) کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے نشیبی علاقوں کی آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں اپ اسٹریم علاقوں، خصوصاً پڑوسی ریاست پنجاب سے اچانک پانی کے اخراج اور مقامی بارشوں کے امتزاج کو بھی سیلابی صورتحال میں اضافے کا سبب قرار دیا گیا ہے، اور بہتر رابطہ کاری اور مؤثر فلڈ مینجمنٹ نظام کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔