شنگائی تعاون تنظیم جلاس میں دو ٹوک مؤقف، دہشت گردی کے خلاف دوہرے معیار کو دیاناقابل قبول قرار
سرینگر// یو این ایس//مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف سخت اور واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ناسور کے خاتمے کے لیے کسی بھی قسم کے دوہرے معیار کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، اور تنظیم کو ریاستی سرپرستی میں ہونے والی سرحد پار دہشت گردی سے نظریں نہیں چرانا چاہئیں۔کرغزستان کے دارالحکومت بیشکک میں منعقدہ وزرائے دفاع کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کسی بھی خودمختار ملک کی سالمیت کے لیے براہ راست خطرہ ہے اور اس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے جانے چاہئیں جو دہشت گردوں کو پناہ، معاونت یا محفوظ ٹھکانے فراہم کرتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق راجناتھ سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت نے ‘‘آپریشن سندور’’ کے دوران اپنے پختہ عزم کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ واضح پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی کے مراکز اب کسی بھی طرح کی سزا سے محفوظ نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر کارروائی کرنی ہوگی۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انتہا پسندی، شدت پسندی اور دہشت گردی عالمی نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتے جا رہے ہیں، اور یہی وہ چیلنجز ہیں جن کے پیش نظر ایس سی او جیسے پلیٹ فارم کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ تنظیم مشترکہ اقدار کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے اور اس نے دہشت گردی کے خلاف اجتماعی جدوجہد کا عزم ظاہر کیا ہے۔وزیر دفاع نے موجودہ عالمی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت یکطرفہ اقدامات اور بڑھتے ہوئے تنازعات کے باعث ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں مختلف تنازعات کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں اور املاک کا بڑا نقصان ہوا ہے، جو عالمی امن کے لیے تشویشناک ہے۔انہوں نے کہا کہ دفاع اور سلامتی کے ذمہ داران کے طور پر اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود احتسابی کریں اور مؤثر اقدامات کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کریں۔ماہرین کے مطابق وزیر دفاع کا یہ بیان نہ صرف بھارت کے سخت موقف کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر عالمی سطح پر مربوط حکمت عملی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے منگل کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے دفاع اجلاس کے موقع پر اپنے چینی ہم منصب ڈانگ جن سے اہم ملاقات کی، جس میں لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ موجودہ صورتحال سمیت دوطرفہ دفاعی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی کے حوالے سے حساس صورتحال برقرار ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان جاری فوجی و سفارتی سطح کے مذاکرات کے تناظر میں اس بات چیت کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ اگرچہ ملاقات کی مکمل تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم یہ واضح ہے کہ دونوں فریقین نے سرحدی استحکام، اعتماد سازی اقدامات اور کشیدگی میں کمی جیسے امور پر بات چیت کی۔یو این ایس کے مطابق راجناتھ سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے پیغام میں چینی وزیر دفاع سے ملاقات کو خوشگوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایس سی او اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے ساتھ مکالمہ جاری رکھنا علاقائی استحکام کے لیے اہم ہے۔اپنے دورہ بشکیک کے دوران بھارتی وزیر دفاع نے روس کے وزیر دفاع بیئلو سو انڈرل سے بھی ملاقات کی، جس میں دفاعی تعاون، اسٹریٹجک شراکت داری اور خطے کی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بھارت اور روس کے درمیان دفاعی تعلقات طویل عرصے سے مضبوط رہے ہیں اور دونوں ممالک اسٹریٹجک شراکت دار تصور کیے جاتے ہیں۔وزیر دفاع پیر کو بشکیک پہنچے تھے، جہاں ان کا روایتی خیرمقدم کیا گیا۔ انہوں نے اپنی مصروفیات کا آغاز وکٹری اسکوائر پر شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا، جہاں انہوں نے پھول چڑھائے اور خاموشی اختیار کی۔ اس اقدام کو ان کے دورے کی ایک باوقار شروعات قرار دیا جا رہا ہے۔شنگائی تعاون آرگنائزیشن وزرائے دفاع اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب عالمی اور علاقائی سطح پر جغرافیائی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً مغربی ایشیا کی صورتحال، عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی رقابت اور سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں۔ اجلاس میں شریک وزرائے دفاع بین الاقوامی امن، انسداد دہشت گردی تعاون، سرحدی سلامتی اور دفاعی روابط کو فروغ دینے جیسے اہم موضوعات پر غور کر رہے ہیں۔بھارت نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عالمی امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے، تاہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ راج ناتھ سنگھ نے دورے سے قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ بھارت ایس سی او پلیٹ فارم کو باہمی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے فروغ کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کرے گا۔شنگھائی تعاون تنظیم جو 2001 میں قائم ہوئی، اس وقت دنیا کی بڑی علاقائی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے ارکان میں بھارت، چین، روس، پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک شامل ہیں۔ بھارت 2017 میں اس کا مستقل رکن بنا اور اس کے بعد سے تنظیم میں اپنی سفارتی اور دفاعی سرگرمیوں کو وسعت دے رہا ہے۔بشکیک میں ہونے والی یہ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں نہ صرف دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں اہم ہیں بلکہ یہ علاقائی توازن برقرار رکھنے، کشیدگی کم کرنے اور کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ خاص طور پر بھارت اور چین کے درمیان براہ راست مکالمہ ایل اے سی پر استحکام کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ روس کے ساتھ جاری دفاعی تعاون اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ روابط بھارت کی اس حکمت عملی کو ظاہر کرتے ہیں جس کے تحت وہ خطے میں ایک متوازن، فعال اور ذمہ دار کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس طرح کی سفارتی کوششیں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں تو خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے امکانات کو تقویت مل سکتی ہے۔










