تصدیقی عمل کے بعد جموں و کشمیر کے 5 لاکھ خاندانوں کو پکے مکانات فراہم کیے جائیں گے/ شیو راج سنگھ چوہان
سرینگر// یو این ایس//مرکزی وزیر شیو راج سنگھ چوہان نے منگل کو سرینگر کے ایس کے آئی سی سی میں پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کا آغاز کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیے ایک جامع کثیر شعبہ جاتی دیہی ترقیاتی منصوبے کا اعلان کیا، جس میں سڑکوں کی تعمیر، غریبوں کے لیے رہائش، زراعت، باغبانی اور خواتین کی معاشی خودمختاری کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ جموں و کشمیر ان کے لیے جذباتی اور ترقیاتی دونوں حوالوں سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے، اور خطے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دیہی علاقوں میں سڑکوں کی کمی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور بغیر رابطہ سڑکوں کے کوئی بھی ترقیاتی عمل مکمل نہیں ہو سکتا۔انہوں نے بتایا کہ پی ایم جی ایس وائی-IV کے تحت دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو سڑکوں کے ذریعے جوڑا جائے گا، جس سے نہ صرف عوامی نقل و حمل بہتر ہوگی بلکہ صحت، تعلیم اور منڈیوں تک رسائی بھی آسان ہو جائے گی۔مرکزی وزیر نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران جموں و کشمیر میں مختلف دیہی ترقیاتی پروگراموں کے تحت تقریباً 8000 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے، جو خطے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے ایک بڑی سرمایہ کاری ہے۔رہائش کے شعبے پر بات کرتے ہوئے شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ ہر مستحق غریب خاندان کو پختہ مکان فراہم کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی اہل خاندان رہائش سے محروم نہ رہے۔خواتین کی بااختیاری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلف ہیلپ گروپس کے ذریعے دیہی خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنایا جا رہا ہے، جبکہ خواتین کی قیادت میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔زراعت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں زمینوں کے چھوٹے اور بکھرے ہوئے ہونے کے باعث ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ‘‘انٹیگریٹڈ فارمنگ سسٹم’’ کو فروغ دینے کا اعلان کیا، جس کے تحت کسانوں کو زراعت، باغبانی، ماہی پروری، مویشی پالنا اور شہد کی مکھیوں کی افزائش کو یکجا کر کے آمدنی کے متعدد ذرائع پیدا کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔باغبانی کے شعبے میں درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں کم معیار کے پودوں کی وجہ سے سیب اور اخروٹ کی پیداوار متاثر ہوئی۔ اس کے تدارک کے لیے انہوں نے ‘‘کلین پلانٹ پروگرام’’ شروع کرنے کا اعلان کیا، جو کشمیر یونیورسٹی اور جموں یونیورسٹی کے اشتراک سے چلایا جائے گا، جس کے تحت بیماریوں سے پاک اور معیاری پودے تیار کیے جائیں گے اور جدید نرسریاں قائم کی جائیں گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ انڈئن کونسل آف ایگری کلچر ریسرچ کے ماہرین کی ایک ٹیم جموں و کشمیر کا دورہ کرے گی، جو خطے کے موسمی حالات، مٹی کی صحت، آبی وسائل اور فصلوں کی موزونیت کا جائزہ لے کر ایک سائنسی روڈ میپ تیار کرے گی، تاکہ زراعت اور باغبانی کے شعبوں میں طویل مدتی بہتری لائی جا سکے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ مرکز اور یونین ٹیریٹری انتظامیہ قریبی تال میل کے ساتھ اس دیہی ترقیاتی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنائیں گے، جبکہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے بھی مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔تقریب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری اعلیٰ سرکاری حکام اور عوامی نمائندوں نے شرکت کی، جہاں جموں و کشمیر میں ہمہ جہت دیہی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔










