جموںوکشمیر کو کھیلوںکا مرکز بنانے پر زور دیااورجموںوکشمیر میں سپورٹس یونیورسٹی کے قیام کی وکالت کی
سری نگر// وزیر برائے خوراک، شہری رسدات و امور صارفین، آئی ٹی، ٹرانسپورٹ، اَمورِ نوجوان و کھیل کود محکمہ جات ستیش شرما نے آج ایس کے آئی سی سی سری نگر میں منعقدہ چنتن شیویر کے اِختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو ملک کا کھیلوں کا مرکز بنانے کے لئے ایک جرأت مندانہ اور تبدیلی کا نظریہ پیش کیا۔اُنہوںنے اِس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ہندوستان کاسرمائی کھیلوں کا دارالحکومت بننے کے ساتھ ساتھ آبی کھیلوں کے مرکز کے طور پر بڑھتی ہوئی شہرت حاصل کر سکتا ہے۔ اُنہوں نے ایک متحرک اور جامع کھیلوں کے ماحول کے قیام پر زور دیا جو کھیلوں کی سرگرمیوں کو بنیادی سطح سے قومی سطح تک فروغ دے جسے مضبوط انفراسٹرکچر کی ترقی اور مؤثر پالیسی سپورٹ حاصل ہو۔ستیش شرما نے مرکوز اقدامات کی ضرورت کو اُجاگر کرتے ہوئے مرکزی وزارت برائے اَمور نوجوانان و کھیل کود سے اپیل کی کہ عالمی معیار کے کھیلوں کے ڈھانچے کی ترقی اور کھیلوں کے پروگراموں کی توسیع بالخصوص سرحدی اور دُور دراز علاقوں کے لئے فراخدلانہ مالی معاونت فراہم کی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسے اَقدامات نہ صرف ان علاقوں کے نوجوانوں کی بے پناہ صلاحیتوں کو اُجاگر کریں گے بلکہ انہیں ترقی اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع بھی فراہم کریں گے۔اُنہوںنے جموں و کشمیر میں ایک خصوصی سپورٹس یونیورسٹی کے قیام کی بھرپور وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا اِدارہ تربیت، تحقیق اور صلاحیت سازی کے لئے ایک مرکز کے طور پر کام کرے گا جو خطے کے کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط کرے گا اور مستقبل کے چمپئن تیار کرے گا۔وزیرموصوف نے سرحدی اور دیہی کھیلوں کے فروغ کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ چیلنجوںکے باوجود ان علاقوں کے نوجوانوں میں بے مثال جذبہ، حوصلہ اور حب الوطنی ہے ۔ اُنہوں نے ان کی فعال شرکت اور کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے خصوصی مراعات اور منظم پروگراموں کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے جموں و کشمیر کی کھیلوں میں بڑھتی ہوئی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے قومی سطح کے مقابلوں میں خطے کی قابلِ ستائش کارکردگی کو اُجاگر کیا جن میں سنتوش ٹرافی میں پیش رفت اور رنجی ٹرافی جیسے بڑے ٹورنامنٹوں میں شرکت شامل ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں مقامی نوجوانوں کی پوشیدہ صلاحیتوں اور کھیلوں میں مسلسل سرمایہ کاری کے مثبت اثرات کی عکاسی کرتی ہیں۔
وزیر اَمورِنوجوان و کھیل کود نے کشمیر ولو بیٹ صنعت کی بے پناہ اقتصادی صلاحیت کی طرف بھی توجہ دلائی جو عالمی سطح پر تقریباً 70 فیصد بیٹس کی پیداوار فراہم کرتی ہے۔ اُنہوں نے اس شعبے کی ترویج اور جدید کاری کے لئے سٹریٹجک اقدامات پر زور دیا اور کہا کہ یہ صنعت نہ صرف بیٹ سازی میں انقلاب لا سکتی ہے بلکہ مقامی نوجوانوں کے لئے روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔اُنہوں نے اپنے ذاتی تجربات کا اِشتراک کرتے ہوئے بتایا کہ کھیلوں نے ان کی شخصیت سازی اور نظم و ضبط میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ کھیل نوجوانوں کو منشیات جیسی برائیوں سے دور رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں کیوں کہ یہ ان کی توانائی کو مثبت اور صحت مند سرگرمیوں میں مصروف رکھتے ہیں۔ستیش شرما نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ نوجوانوں کو کھیلوں سے جوڑنا نہ صرف جسمانی و ذہنی صحت کو فروغ دیتا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی اور قومی فخر کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ اُنہوں نے نوجوانوں کو بااِختیار بنانے کے لئے مختلف قومی اقدامات کی سراہنا کی اور انہیں قوم ساز نسل کی تربیت میں اہم قرار دیا۔اُنہوںنے یقین ظاہر کیا کہ مسلسل کوششوں، حکمت عملی پر مبنی سرمایہ کاری اور وزیر اعظم کی مسلسل حمایت سے جموں و کشمیر میں کھیلوں کے شعبے میں بے مثال ترقی دیکھنے کو ملے گی۔










