احمدآباد / ایجنسیز //ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026ء کے فائنل میں ہندوستان نے نیوزی لینڈ کو 96 رنز سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ کل رات ٹیم انڈیا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا کامیابی سے دفاع کرنے والی اور میزبان ملک کے طور پر ٹرافی جیتنے والی پہلی ٹیم بھی بن گئی ہے۔فائنل میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ہندوستان نے مقررہ 20 اوورز میں 5وکٹوں کے نقصان پر 255رنز کا بڑا اسکور بنایا۔ہدف کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم دباؤ کا شکار رہی اور مقررہ اوورز میں مطلوبہ اسکور حاصل نہ کر سکی۔میچ کے بعد نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر نے کہا کہ ان کی ٹیم کو ایک مضبوط ٹیم کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیم کو فائنل تک پہنچنے پر فخر ہے لیکن فائنل میں ہندوستانی ٹیم نے ہر شعبے میں بہتر کھیل پیش کیا۔ مچل سینٹنر نے کہا ہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ کے فائنل میں شکست کے باوجود انہیں اپنی ٹیم کی کارکردگی پر فخر ہے۔ ان کی ٹیم نے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کو شکست دے کر فائنل کیلئے رسائی حاصل کی تھی۔ سینٹنر نے کہا کہ سیمی فائنل اور فائنل تک پہنچنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ اس مرحلے پر تمام ٹیمیں بہترین کرکٹ کھیل رہی ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے خلاف فائنل ہمیشہ مشکل ہوتا ہے اور ان کی ٹیم میچ میں واضح طور پر انڈر ڈاگ تھی۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے فائنل میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا جبکہ 250 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاور پلے میں وکٹیں گرنا ٹیم کیلئے بڑا دھکہ ثابت ہوا۔سینٹنر کے مطابق میچ کا فیصلہ دونوں ٹیموں کے پاور پلے کی کارکردگی نے کیا کیونکہ ہندوستان نے بغیر کسی نقصان کے تقریباً 90 رنز بنائے جبکہ نیوزی لینڈ کی تین وکٹیں 40 رنز کے قریب گر چکی تھیں۔کیوی کپتان نے کہا کہ انہیں اپنے ملک کے شائقین کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 90 ہزار تماشائیوں سے بھرے اسٹیڈیم میں کھیلنا ایک یادگار تجربہ تھا جہاں زیادہ تر شائقین ہندوستانی تھے۔
مچل سینٹنر نے کہا کہ ٹیم اب آئندہ بڑے مقابلوں پر توجہ مرکوز کرے گی جن میں ورلڈ کپ شامل ہے جو اگلے سال جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں کھیلا جائے گا۔کیوی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ اگلا ٹی 20 ورلڈ کپ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی میزبانی میں کھیلا جائے گا۔










