نام ڈاکٹر میر محمد ابراہیم
ادبی شخصیت
آیتالله خامنہای کا تعلق شعر و ادبیات کی دنیا سے بھی ہے ۔ انہوں نے دنیا کی بہت سی معتبر ناولوں اور داستانوں اور دیگر ادبی نگارشات کا مطالعہ کیا ہے۔ ادبیات کے ساتھ رہبر معظم کے اس لگاؤ نے انہیں دنیا ۓ مشرق و مغرب کے اعلیٰ پائے اور چوٹی کے قلمکاروں ، ادیبوں اور دنیا کی تاریخ، تہذیب و ثقافت سے کافی حد تک متعارف کرایا۔ حتٰی کہ انہوں نے بہت سی ادبی کتابوں اورشعری تخلیقات پر نقد و تبصرہ بھی کیا ہے ۔ بہت سےشعرا، ادیبوں اور روشن فکر قلمکاروں کے ساتھ ان کی خط و کتابت بھی رہی ہے۔ رہبر معظم کے مشہد مقدس میں سکونت پزیری کے زمانے میں انہوں نے معتبر ادبی انجمنوں کے زیر اہتمام شعری و ادبی محفلوں میں شرکت فرمائی۔ انہوں نے خود بھی شاعری کی ہے اور ان کا تخلص امین ہے۔انہوں نے دنیا کی معروف تاریخ کی کتب کا بھی بھر پور مطالعہ کیا ہے۔ آپ فارسی کے علاوہ عربی اور ترکی زبانوں پر بھی مکمل دست رس رکھتے ہیں۔ ادبی محافل میں آپ ایک صاحب نظر ادیب مانے جاتے ہیں۔ یونسکو کی طرف سے ایران میں منعقد حافظ شیرازی کی برسی کے موقع پر آپ نے ایسی جامع افتتاحیہ تقریر کی کہ پاکستان کے مشہور سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام نے متاثر ہو کر کہا تھا: اگر آپ جیسے صدر تمام ممالک کو مل جائیں تو دنیا کی تقدیر بدل جائے گی۔ علامہ اقبال پرتہران میں ہوئے سیمینار کے دوران آپ نے نہایت ہی بلیغ اور پر مغز تقریر فرمائی ( جو اردو اور انگریزی زبانوں میں بھی چھپ چکی ہے)۔ علامہ اقبال کے فکر و فن کے حوالے سے آپ کی یہ پر مغز تقریر سن کر علامہ اقبال کے صاحبزادے جاوید اقبال نے فرمایا تھا:” میں نے اپنے باپ کو ایران آکر پہچانا ہے“۔ ادب کے علاوہ آپ اسلامی علوم اور تاریخ کے میدان میں بھی بڑی ہی عمیق نظر رکھتے ہیں۔ خصوصاً سیرت ائمہ علیہم السلام کے بہت سے اچھوتے گوشوں کو آپ نے مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ ”ہمارے ائمہ اور سیاسی جدوجہد“ اور اسی طرے مقالہ” سیرت سید سجادؑ “ اور امام جعفر صادق کی زندگی پر آپ نے بصیرت افروز نگارشات صفہ قرطاس کے حوالے کی ہیں۔ آپ کی دیگر تالیفات میں ”ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا کردار“،” قرآن میں اسلامی افکار کے بنیادی نقوش“ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح آپ نے ایک اور کتاب شہید بہشتی، شہید باہنر اور جناب ہاشمی رفسنجانی کے ساتھ مل کر” ہمارا موقف“ کے عنوان سے لکھی ہے۔ آپ نے صلح امام حسنؑ کے علاوہ آئندہ در قلمرد اسلام اور ادعا نامہ ای علیہ تمدن غرب کے عنوان سے کچھ کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کیا ہے۔ یہاں پر ہم آپ کی تالیف و تحقیق کا زرا تفصیل سے ذکر کرتے ہیں۔
تالیف و تحقیق
حضرت آیت اللہ الاظمیٰ سید علی خامنہ ای کی بہت سی تالیفات اور تحقیقی کام ہیں جن میں سےبعض زیور طبع سے آراستہ ہو چکے ہیں:
کتاب الجہاد (آپ کا درس خارج)
چہار کتاب اصلی علم رجال
قبسات النور
طرح کلی اندیشہ اسلامی در قرآن
از ژرفای نماز
گفتار ی در باب صبر
چہار کتاب اصلی علم رجال
انوار ولایت
گزارش از سابقہ تاریخی و او ضا ع کنونی حوزہ علمیہ مشہد
درالفوائد فی اجوبتہ القائد
ادعانامہ علیہ تمدن غرب
استفتائات
عنصر مبارزہ در زندگی آئمہؑ
زندگی نامہ آئمہ تشیع
بحثی در نبوت
پرسش و پاسخ پانچ جلد
پیرامون عزادارئی عاشورا
سیری در زندگی امام صادقؑ
وحدت و تحزب
چہار سال با مردم
درس اخلاق
درسہای از نہج البلاغہ
مسلمانان در نہضت ہندوستان
ہنر از دیدگاہ آیت اﷲ خامنہ ای
روح توحید نفی عبودیت غیر خدا
رسالت حوزہ
درست فہمیدن دین
رسالت انقلابی نسل جوان روحانی و روشنفکر
گروہ ہائی معرض در نہضتہای انبیاء
پژوہشی در زندگی امام سجادؑ
درس وحدت
بازگشت بہ نہج البلاغہ
شخصیت سیاسی حضرت امام رضاؑ
حدیث ولایت ( آپ کے پیغامات اور گفتگو کا مجموعہ ہے کہ جو اب تک ٩ جلدوں میں شائع ہو چکا ہے
پیرامون عزادارئ عاشورا
حکومت در اسلام
ترجمے
صلح امام حسن پر شکوہ ترین نرمش قہرمانئہ تاریخ ، تالیف راضی آل یاسین
آئندہ در قلمرو اسلام ، تالیف سید قطب
مسلمانان در نہضت آزادی ہندوستان ، تالیف عبد المنعم نمری نصری
ادعا نامہ علیہ تمدن غرب ، تالیف سید قطب
تفسیر فی ظلال القرآن
ان میں سے بعض کتب کا ترجمہ اردو، انگریزی اور دنیا کی دوسری زبانوں میں ہو چکا ہے اور ابھی بہت سی کتابوں کا ترجمہ ہونا باقی ہے۔ کچھ مؤلفین نے رہبر معظم کی بہت سے موضوعات پر مختلف مواقعہ پر ان کے خطابات کو ترتیب و تدوین کرکے انہیں کتابی شکل میں پیش کیا ہےجن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہوا ہے اور اس طرح کی بہت سی کتب منظر عام پر آچکی ہیں۔
9149558699










