کوپن ہیگن/یو این آئی// گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے سے متعلق امریکی کوششوں اور بیانات کے خلاف ڈنمارک اور گرین لینڈ کے کئی شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔ڈنمارک کی راجدھانی کوپن ہیگن کے ‘سٹی ہال اسکوائر’ میں ہفتہ کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً 12 بجے (ہندوستانی وقت کے مطابق شام 4:30 بجے ) لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی، جس نے امریکی سفارت خانے تک مارچ کیا۔ اس مظاہرے میں ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں کے شہری شریک تھے ۔ ان کے ہاتھوں میں قومی پرچم تھے ۔اسی دوران گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں بھی دوپہر سے ہی لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے اور ‘گرین لینڈ والوں کا ہے ‘ گرین لینڈ گرین’ کے نعرے لگائے گئے ۔ اس مظاہرے میں گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس-فریڈرک نیلسن بھی شریک ہوئے ۔ مظاہرین نے روایتی اِنُوئٹ گیت گائے اور کئی افراد نے ”میک امریکہ گو اوے ‘ (امریکہ کو واپس بھیجو) تحریر والی ٹوپیاں پہن رکھی تھیں۔ان مظاہروں کے دوران امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ امریکہ یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے ، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے درآمد ہونے والے تمام سامان پر 10 فیصد درآمدی محصول عائد کرے گا۔ مسٹر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر گرین لینڈ کی خریداری سے متعلق کوئی معاہدہ نہ ہوا تو یکم جون سے اس محصول کو بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔










