9اور10فروری :میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی برف و باراں کاامکان

سری نگر//سری نگر اور قاضی گنڈ کو چھوڑ کر، وادی کشمیرکے باقی علاقوںمیں دوران شب درجہ حرارت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔اس دوران منگل کی صبح سری نگرسمیت بیشتر علاقوںمیں دھوپ نکلنے کے باعث موسم کافی خوشگواررہا۔اُدھر محکمہ موسمیات نے آج یعنی8فروری بروز بدھ کوموسم ابرآلودرہنے کاامکان ظاہر کرتے ہوئے9اور10فروری کومیدانی علاقوںمیں ہلکی سے درمیانی برف باری وبارش اور بالائی مقامات پر بھاری برف باری ہونے کی پیش گوئی کردی ۔جے کے این ایس کے مطابق حالیہ ہلکی برف وباراں کے بعدپیر اور منگل کی درمیانی رات سری نگر کے علاوہ قاضی گنڈ میں بھی درجہ حرارت معمول سے اوپرریکارڈ کیاگیا۔تاہم شمالی کشمیرمیں واقع برف سے ڈھکا سیاحتی مقام گلمرگ منفی7.0ڈگری سینٹی گریڈ پر جموں و کشمیر کا سرد ترین مقام رہا۔ محکمہ موسمیات نے پیر اور منگل کی درمیانی رات درج درجہ حرارت کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت 2.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جومعمول سے 3.1 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔ قاضی گنڈمیں گزشتہ رات کم سے کم درجہ حرارت0.4ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیاگیا،جو معمول سے 1.9ڈگری سینٹی گریڈزیادہ تھا۔ محکمہ موسمیات نے کہا کہ جنوبی کشمیرمیں واقع مشہورسیاحتی مقام پہلگام میں پیر اور منگل کی درمیانی رات کم سے کم درجہ حرارت منفی5.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا اور یہ اس مشہور سیاحتی مقام کیلئے معمول سے0.3 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کوکرناگ میں شبانہ درجہ حرارت منفی 0.7 ڈگری سینٹی گریڈ ، کپوارہ قصبے میں منفی 1.0ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیاگیا۔ اس دوران شبانہ درجہ حرارت میں بہتری کے بعد منگل کی صبح دھوپ نکلی ،جو دوپہر بعدتک چھائی رہی ،جسکے نتیجے میں دن کے وقت موسم کافی خوشگوار رہا۔اُدھر محکمہ موسمیات نے آج یعنی8فروری بروز بدھ کوموسم ابرآلودرہنے کاامکان ظاہر کرتے ہوئے9اور10فروری کومیدانی علاقوںمیں ہلکی سے درمیانی برف باری وبارش اور بالائی مقامات پر بھاری برف باری ہونے کی پیش گوئی کردی ۔تاہم محکمہ موسمیات نے کہاکہ اگلے ایک ہفتے کسی شدید برف باری کاکوئی امکان نہیں ہے ۔قابل ذکر ہے کہ21دسمبر2022کوشروع ہونے والا چالیس روزہ چلہ کلان رخصت ہوچکاہے اور فی الوقت کشمیرمیں 20روزہ چلہ خورد کادور چل رہاہے ،جس کی رخصتی کے بعد20فروری سے یکم مارچ تک چلہ بچہ کے 10دن ہونگے ،اوراسکے مکمل ہوتے ہی کشمیر کوشدیدسردیوں سے کم سے کم ایک سال کیلئے نجات مل جائے گی ۔