70 ہزار غیر قانونی قبضہ کیس حکام کی نظر میں

ہائی کورٹ احکامات کے باوجود جموں و کشمیر میں 20 ہزار ہیکٹر جنگلاتی اراضی پر قبضے برقرار

سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی جانب سے جنگلاتی اراضی سے غیر قانونی قبضے ہٹانے کے واضح احکامات جاری ہونے کے پانچ برس سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یونین ٹریٹری میں تقریباً 20 ہزار ہیکٹر جنگلاتی زمین اب بھی قبضوں کی زد میں ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مختلف حلقوں کے دباؤ، مزاحمت اور ریونیو ریکارڈ کی تصدیق کے پیچیدہ عمل نے اس وسیع اراضی کی بازیابی کو حکام کیلئے انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر بھر میں جنگلاتی زمین پر غیر قانونی قبضوں کے تقریباً 70 ہزار معاملات موجود ہیں جن میں لگ بھگ 20 ہزار ہیکٹر اراضی شامل ہے۔ یہ قبضے مختلف جنگلاتی ڈویڑنوں، گرین بیلٹس اور ان محفوظ علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں جو قانون کے تحت تحفظ یافتہ قرار دیئے گئے تھے۔یو این ایس کے مطابق واضح رہے کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی ڈویڑن بنچ نے 3 ستمبر 2020 کو مفادِ عامہ کی عرضی میں فیصلہ سناتے ہوئے محکمہ جنگلات کو ہدایت دی تھی کہ جنگلاتی زمین سے قبضے وقت مقررہ کے اندر ہٹائے جائیں۔ عدالت نے اس مقصد کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹیاں تشکیل دینے کا حکم بھی دیا تھا۔ہائی کورٹ نے تمام سرکاری محکموں کو یہ ہدایت بھی جاری کی تھی کہ محکمہ جنگلات کی جانب سے جن اراضیوں کو قبضہ شدہ قرار دیا گیا ہے، ان کے ریونیو ریکارڈ یا زمینی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔تاہم، پانچ برس سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود صورتحال میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آ سکی اور ہزاروں ہیکٹر جنگلاتی زمین اب بھی ناجائز قبضوں میں پھنسی ہوئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ قبضوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے، لیکن زمین کی بازیابی متعدد وجوہات کی بنا پر مشکل ثابت ہو رہی ہے۔ ان میں ریونیو محکمہ کے ساتھ ریکارڈ کی ازسرنو تصدیق، قانونی پیچیدگیاں، مقامی دباؤ اور سیاسی و سماجی اثر و رسوخ شامل ہیں۔حکام کے مطابق جموں و کشمیر میں تقریباً 2200 جنگلات موجود ہیں اور جنگلاتی حدود کے ریکارڈ کی آخری بڑی اپ ڈیٹ 1960 کی دہائی میں کی گئی تھی۔ اسی دوران جنگلاتی زمین کی نشاندہی اور قبضوں کی روک تھام کیلئے تقریباً تین لاکھ باؤنڈری ستون نصب کئے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ان میں سے بڑی تعداد یا تو قدرتی آفات کے باعث تباہ ہوگئی، یا غائب ہوگئی، جبکہ متعدد ستونوں کو مبینہ طور جان بوجھ کر اکھاڑ دیا گیا تاکہ جنگلاتی اراضی پر غیر قانونی قبضے آسان بنائے جا سکیں۔یو این ایس کے مطابق سرکاری اعداد و شمار کے مطابق محکمہ جنگلات نے حالیہ برسوں کے دوران تقریباً دو لاکھ باؤنڈری ستون دوبارہ نصب کئے ہیں تاکہ جنگلاتی حدود کی بحالی اور زمین کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم اب بھی تقریباً ایک لاکھ ستون دوبارہ نصب کئے جانا باقی ہیں۔ذرائع نے کہا کہ باقی ماندہ کام غیر معمولی طور پر مشکل بن چکا ہے کیونکہ کئی علاقوں میں اصل ریکارڈ دستیاب نہیں جبکہ متعدد مقامات پر جنگلاتی زمین پہلے ہی قبضہ شدہ ہے، جس کی وجہ سے زمینی حد بندی متنازع اور خطرناک عمل بن چکی ہے۔حکام کے مطابق بعض علاقوں میں باؤنڈری ستون دوبارہ نصب کرنے کی کوششوں کو قبضہ گروپوں اور مقامی دباؤ والے حلقوں کی شدید مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ذرائع نے بتایا کہ محکمہ جنگلات نے رواں برس تقریباً 35 ہزار مزید باؤنڈری ستون نصب کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ جنگلاتی اراضی کو محفوظ بنایا جا سکے۔ تاہم جیسے ہی حد بندی یا بے دخلی مہم شروع کی جاتی ہے، مختلف حلقوں سے دباؤ بڑھنے لگتا ہے جس سے کارروائی متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’بغیر مسلسل انتظامی حمایت کے یہ کام مکمل ہونا ممکن نہیں۔‘‘ماحولیاتی ماہرین کے مطابق جنگلاتی زمین پر مسلسل قبضے نہ صرف نازک ماحولیاتی نظام کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے کٹاؤ اور موسمیاتی تبدیلی سے جڑے خطرات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے بار بار احکامات کے باوجود قبضوں کا برقرار رہنا حکومتی نظام میں جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حکومت پہلے ہی یونین ٹریٹری سطح کی مانیٹرنگ کمیٹی اور ضلع سطح کی کمیٹیاں تشکیل دے چکی ہے تاکہ جنگلاتی حدود کی حد بندی اور باؤنڈری ستونوں کی تنصیب کی نگرانی کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق اگر ان کمیٹیوں کو آزادانہ طور پر اپنے مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے کی اجازت نہ دی گئی تو جنگلاتی زمین کی بازیابی محض ایک خواب بن کر رہ جائے گی۔