نئی حکمت عملی کے تحت13 ہائر سیکنڈری اسکول پرنسپلوں کو چیف ایجوکیشن افسران کی کمان سپرد
سرینگر//جموں و کشمیر کے تعلیمی نظام میں ایک بڑی اور دور رس تبدیلی کی گئی ہے، جس کے تحت 13 ہائر سیکنڈری اسکولوں کے پرنسپلوں کو عارضی طور پر چیف ایجوکیشن افسران کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس اقدام کے تحت 23 چیف ایجوکیشن افسروں کی تقرریوں اور تبادلوں کا عمل بھی مکمل کیا گیا ہے، جو کہ تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کا عندیہ دیتا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق محکمہ تعلیم کے پرنسپل سیکریٹری، آلوک کمار، نے اس اقدام کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلیاں انتظامی ضروریات اور تعلیمی بہتری کے پیش نظر کی گئی ہیں۔ ان 13 پرنسپلوں کو عارضی طور پر چیف ایجوکیشن افسران کے طور پر تعینات کیا گیا ہے، جن میں بائز ہائر سیکنڈری اسکول کھنموہ سرینگر کی پرنسپل شبینہ قیصر، ہائر سیکنڈری اسکول کلر اننت ناگ کی پرنسپل رفعت سروش، اور دیگر اہم نام شامل ہیں۔یہ عارضی تعیناتیاں 6 ماہ کے لیے کی گئی ہیں، اور ان کی مستقل بنیادوں پر تقرریوں کا فیصلہ پبلک سروس کمیشن یا محکمہ جاتی ترقیاتی کمیٹیوں کی سفارشات پر کیا جائے گا۔ ان نئے افسران کو چارج الاونس کا حق نہیں دیا جائے گا اور ان کی تقرریاں صرف عارضی بنیادوں پر ہوں گی، جس کا مطلب ہے کہ ترقی کی بنیاد صرف سینیارٹی اور موجودہ بھرتی کے قواعد کے مطابق ہوگی۔پرمکت ایجوکیشن افسران کو نئی تعیناتی کی جگہ پر 10 دن کے اندر رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اگر کوئی افسر مقررہ وقت میں اپنی نئی تعیناتی پر شامل نہیں ہوتا تو ان کی تقرری فوراً منسوخ تصور کی جائے گی، اور اس کے لیے کوئی مزید نوٹس نہیں دیا جائے گا۔ افسران کو ایک حلف نامہ پیش کرنا ہوگا جس میں تصدیق کی جائے کہ ان کی تعلیمی اسناد اور خدمت کی تفصیلات جعلی یا غیر تسلیم شدہ نہیں ہیں۔یہ اقدام تعلیمی اداروں میں انتظامی بہتری کو یقینی بنانے اور تعلیمی عمل کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ نئے افسران کو اضافی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنے معمول کے کام جاری رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے، اور ان کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا۔ اس عارضی انتظام کا مقصد یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ ہو اور تعلیمی معیار میں بہتری لائی جا سکے۔یہ تبدیلیاں جموں و کشمیر کے تعلیمی نظام میں ایک نیا موڑ ہیں، جو کہ تعلیمی شعبے کی ترقی اور بہتری کیطرف ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔










