سپیکر نے قانون ساز اسمبلی کی خزاں سیشن سے قبل

سپیکر نے قانون ساز اسمبلی کی خزاں سیشن سے قبل

’ آل پارٹی ‘ اور ’بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے مشترکہ میٹنگ کی صدارت کی

سری نگر//سپیکر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی عبدالرحیم راتھر نے 21 ؍ستمبر 2026 ء کو شروع ہونے والے خزاں سیشن سے قبل ’آل پارٹی ‘ اور ’بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی ) میٹنگ کی صدارت کی جس میں ایوان کے ہموار، منظم اور عوامی نوعیت کے کام کاج کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔میٹنگ میں اپوزیشن لیڈر سنیل کمار شرما، علی محمد ساگر، مُبارک گل، محمد یوسف تاریگامی، نظام الدین بٹ، سجاد غنی لون، میر محمد فیاض اور چودھری محمد اکرم نے شرکت کی۔ میٹنگ کے شروعات میں سپیکر موصوف نے تمام اراکین کا خیرمقدم کیا اور آنے والے اسمبلی سیشن کو زیادہ نتیجہ خیز، معنی خیز، بامقصد اور عوامی مسائل کے حل کے لئے ان کی قیمتی تجاویز طلب کیں۔ اُنہوں نے منتخب نمائندوں کو اَپنے اَپنے حلقوں سے متعلق مسائل اُٹھانے اور عوامی اہمیت کے معاملات کو ایوان میں پیش کرنے کے لئے مناسب مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔سپیکرقانون ساز اسمبلی نے تمام شراکت داروں سے اسمبلی کی کارروائی کے ہموار اور مؤثر طریقے سے چلانے کے لئے مربوط کوششوں کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قانون ساز ادارے پر جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے ایک اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی کی کارروائی پر سب کی نظر ہے اور عوام دیکھ رہے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے اپنے شکایات اور عوامی اہمیت کے مسائل ایوان میں کس طرح پیش کرتے ہیں۔ یہ ہر رکن پر ایک بڑی ذمہ داری عائد کرتا ہے لہٰذا، یہ اِنتہائی ضروری ہے کہ تمام اراکین ایوان کے وقار، نظم و ضبط اور آداب کا مکمل خیال رکھتے ہوئے اَپنا کردار ادا کریں۔‘‘بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے ارکان نے سیشن کو جامع اور عوامی توقعات کے مطابق بنانے کے لئے مختلف قیمتی تجاویز پیش کیں۔ اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ قانون سازوں کو حلقہ وار مسائل اور حکومت کی توجہ طلب معاملات اُٹھانے کے لئے مواقع فراہم کئے جائیں۔اہم تجاویز میں وقفہ صفر کے اِنعقاد پر بحث شامل تھی جس کے تحت ارکان نے تجویز دی کہ چیف وہپس اور پارٹی رہنما ان ارکان کی نشاندہی کریں جو حصہ لیں گے اور کارروائی کے مؤثر انتظام کو یقینی بنانے کے لئے مطلوبہ فہرست پہلے سے فراہم کریں۔اراکین نے یہ بھی تجویز دی کہ ایوان میں نظم و ضبط، توجہ اور ایوان کے وقار کو برقرار رکھنے کے لئے موبائل فون کے اِستعمال کی اِجازت نہیں ہونی چاہیے۔اِس کے علاوہ اِس بات پر بھی زور دیا گیاکہ پرائیویٹ ممبرز بلز، قراردادوں اور سوال و جواب کی فہرستوں کو کارروائی شروع ہونے سے پہلے فراہم کی جائے ۔ اراکین کا کہنا تھا کہ ایسے قانونی مواد کی قبل از دستیابی انہیں مسائل کا گہرائی سے مطالعہ کرنے، مناسب تیاری کرنے اور سیشن کے دوران متعلقہ ضمنی سوالات اُٹھانے کے قابل بنائے گی۔کمیٹی نے مزید زور دیا کہ ہر رُکن کو قابلِ اطلاق قواعد او راسمبلی کے منظور شدہ ایجنڈے کے مطابق عوامی مفاد کے معاملات، حلقے کے مسائل اور وسیع اہمیت کے حامل امور ایوان کے سامنے پیش کرنے کے لئے مناسب وقت اور موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔سپیکر عبدالرحیم راتھر نے اراکین کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کوکا نوٹس لیتے ہوئے خزاں سیشن کے منظم، نتیجہ خیز اور بامقصد انداز میں چلانے کو یقینی بنانے میں تمام اراکین اورمتعلقہ شراکت داروں کی اِجتماعی ذمہ داری پر زور دیا۔میٹنگ پارلیمانی روابط کو مضبوط بنانے، تعمیری مباحثے کو آسان بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ اسمبلی کی کارروائی جموں و کشمیر کے عوام کے مسائل اور توقعات پر مرکوز رہے۔میٹنگ میں سیکرٹری جموںوکشمیر قانون ساز اسمبلی منوج کمار پنڈت بھی موجود تھے۔