2سال بعدہونے والی 43روزہ سالانہ امرناتھ یاترا 2022

نیم فوجی دستوں کی 350 کمپنیاں تعینات کرنے کووزارت داخلہ کی منظوری

سری نگر// حالیہ کچھ ہفتوں کے دوران ملی ٹنسی اورہلاکتوں کے واقعات میں آئی تیزی کے بیچ مرکزی وزارت داخلہ نے 30 جون سے شروع ہونے والی سالانہ امرناتھ جی یاترا کے پُرامن انعقاد اوریاتریوں کی حفاظت کویقینی بنانے کی خاطر جموں اور کشمیرکیلئے 350 اضافی نیم فوجی کمپنیوں کو منظوری دی ہے۔اس دوران سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسیوں نے سالانہ یاترا کے پیش نظر جموں صوبہ ا ور کشمیر ڈویڑن کیلئے الگ الگ سے ایڈوائزری جاری کی ہے جو 11 اگست تک 43روزہ یاتراکے اختتام تک جاری رہے گی۔جے کے این ایس کے مطابق ایک اخبار نے سرکاری ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے اپنی ایک نیو زرپورٹ میں اسبات کاخلاصہ کیا ہے کہ پہلے مرحلے میں200 نیم فوجی کمپنیاں فوری طور پرجموں وکشمیرمیں پہنچیں گی جبکہ دوسرے اور تیسرے مرحلے میں 75 کمپنیاں پہنچیں گی۔ذرائع نے کہاکہ سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز کی تمام 350 اضافی کمپنیاں 20جون سے شروع ہونے والی43روزہ امرناتھ یاترا سے10روزقبل یعنی 10 جون تک جموں و کشمیر میں موجود ہوں گی جبکہ ان کی تعیناتی 20 جون تک مکمل ہو جائے گی۔ذرائع کے مطابق نیم فوجی دستوں کی5 کمپنیاں یاترا کی حفاظت کے لئے تعینات کی جائیں گی۔ ان میںسی آر پی ایف،بی ایس ایف،آئی ٹی بی پی،ایس ایس بی اور سی آئی ایس ایف شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ یاترا کی سیکورٹی کیلئے نیم فوجی دستوں کی جو کمپنیاں تعینات کی جا رہی ہیں، ان میں سے زیادہ تر کا تعلق سی آر پی ایف سے ہے۔ذرائع کے مطابق نئی دہلی اور کچھ دیگر پرامن ریاستوں سے پانچ نیم فوجی دستوں کی کمپنیاں جموں و کشمیر بھیجی جا رہی ہیں۔نیم فوجی دستوں کی350 اضافی کمپنیوں کو امرناتھ جی یاترا کی حفاظت کیلئے کافی بتاتے ہوئے سرکاری ذرائع نے کہاہے کہ جموں و کشمیر خاص طور پر وادی میں نیم فوجی دستوں کی پیشگی آمد اور تعیناتی سے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور ٹارگٹ کلنگ کے کسی بھی واقعے کو روکنے میں مزید مدد ملے گی۔ نیم فوجی دستوں کی اضافی تعیناتی کے علاوہ، سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسیوں نے امرناتھ جی یاترا کیلئے ایڈوائزری کے2سیٹ بھی جاری کئے ہیں،جن میں سے ایک جموں اور ایک کشمیر ڈویڑن کیلئے ہے۔جموں ڈویڑن کیلئے ایڈوائزری سرحد سے دراندازی کے بعد ڈرون حملوں اور جنگجوئیانہ حملے سے متعلق ہے جب کہ کشمیر کیلئے ایڈوائزری متعدد قسم کے حملوں کیلئے ہے جس میں چسپاں بموں اور دیسی ساختہ بموں کے استعمال (آئی ای ڈی) شامل ہیں۔سرکاری ذرائع نے مزید بتایاہے کہ امرناتھ یاترا کیلئے حفاظتی انتظامات ایڈوائزری کو مدنظر رکھتے ہوئے کئے جا رہے ہیں۔یادرہے حالیہ دنوںمیں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی داخلہ سکریٹری اجے کمار بھلا اور جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے امرناتھ جی یاترا کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے سلسلہ وار میٹنگیں کی ہیں۔مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر حکومت بھی سالانہ امرناتھ یاترا کی سیکورٹی کو لے کر فکر مند ہے،اوردونوں حکومتیں چاہتی ہیں کہ 43روزہ یاترا کیلئے فول پروف حفاظتی انتظامات کئے جائیں، اس لئے مستقبل میں مزید اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ میٹنگوں کا بھی امکان ہے۔اس بار سیکورٹی کے انتظامات مزید سخت ہونے جا رہے ہیں کیونکہ یاترا 2سال بعد ہو رہی ہے۔یہ یاترا 2020 اور2021 میں کوویڈ وبائی بیماری کی وجہ سے نہیں چلائی جاسکی تھی جبکہ مرکزی حکومت کے 5 اگست2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور سابقہ ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلوں سے کچھ روز قبل 2019 میںسالانہ امرناتھ یاتراکی معیاد میں15 دن کی کمی کی گئی تھی۔