ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ نے ضرورت مندوں اور بے سہارا لوگوں میں کھانے کی اشیاء تقسیم کیں

15سو کے قریب کنبے پچاس ہزار روپے کی امداد سے ہنوز محروم

انتظامیہ کی جانب سے امدادی رقم حاصل کرنے کیلئے تڑپانے اور ترسانے کی کارروائیاں عمل میں لانے کاانکشاف

سرینگر//جموں وکشمیر میںضلع سطح پرغیرسنجیدگی اور غیر ضروری طوالت کے باعث 15س کے قریب کنبے ابھی بھی کروناوائرس وبائی بیماری سے جان گنوانے کے بعد ان کے لواحقین پچاس ہزا رروپے کی امداد سے محروم ہے ۔امدادی رقم حاصل کرنے کے لئے متعلقہ کنبوں کومرنے والے افراد کے بینک کھاتے آھار کارڈ اور دوسرے لوازمات پیش کرنے کی غیرضروری ہدایت کی جاتی ہے ۔حالانکہ اسپتالوں کی جانب سے مرنے والے افرا دکے لواحقین کوباضابطہ طور پرسٹفکیٹ فراہم کی گئی ہے کہ ان کی موت کروناوائرس وبائی بیماری میں مبتلاہونے کے بعد ہوئی ہے ۔اے پی آئی نیوز ڈیسک کے مطابق افسر شاہی کی وجہ سے لوگوں کوکئی طرح کے مشکلات کاسامناکرنا پڑ تاہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور جہاں تک جموں وکشمیر کاتعلق ہے یہاں افسر شاہی کے قصے مشہور بھی ہے اور عوام کے تئیں افسر شاہی کاجورد عمل رہاہے وہ کسی سے ڈھکاچھپانہیںہے ۔سال 2019کے بعد 20-21مئی پوری دنیاکوکروناوائرس کی وبائی بیماری نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔تین کروڑ سے زیادہ لوگوں کی موت واقع ہوئی مختلف ممالک کے لوگوں نے اس وبائی بیماری میں مبتلا ہوکرمرنے کے بعد کس طرح کی امداد اور ان کی باز آبا دکاری کے اقدامات اٹھائے ا سکے پس منظر میں جائے بغیرجہاں تک ملک کاتعلق ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیامیں کئی افراد نے رٹ پٹشن دائرکی تھی جسمیں انہوںنے مطالبہ کیاتھاکہ ا س وبائی بیماری میں مبتلاہونے والے افراد کے نزدیکی لواحقین کوپانچ لاکھ روپے کی امداد فراہم کی جانی چاہئے تاہم سپریم کورٹ آ ف انڈ یا نے مرکزی حکومت کوہدایت کی اس بیماری میں مبتلاہونے کے بعد مرنے والے افراد کے نزدیکی رشتہ داروں کو پچاس ہزار روپے امداد کی صورت مین فراہم کیئے جانے چاہئے ۔جموں کشمیرمیں اس بیماری سے چار ہزار 833افراد لقمہ اجل ہوئے اور سرکار نے ملک بھرکی طرح جموں وکشمیرمیں بھی پچاس ہزار روپے امداد کی صورت میں فراہم کرنے کی شروعات کی اور پچھلے ایک سال سے سرکار نے کروناوائرس کی وبائی بیماری میں مبتلاہونے او ران کی جانیں ضائع ہونے کے بعدنزدیکی تین ہزار 333کنبوںکوامدادی رقم فراہم کی ۔جبکہ پندرہ سو کنبے ایسے ہیں جنہیں ابھی تک یہ امداد فراہم نہیں کی جارہی ہے اور ان کاگناہ صرف اتناہے کہ انتظامیہ ان کاسننے کے لئے تیار نہیں ۔ڈپٹی کمشنروں کے دفتروں میں انہیں نئے دستاویزات پیش کرنے کا حکم دیاجاتاہے کبھی آدھا رکارڈ توکھبی بینک کھاتے کبھی راشن کارڈ علاقے کے لوگوں کی طرف سے اس بات کی تصدیق ہونی چاہئے ۔حالانکہ کروناوائرس کی بیماری سے مرنے والے افراد کواسپتالوں نے با ضابطہ طور پرسٹفکیٹ بھی دے دی لیکن ستم ظریفی کایہ عالم ہے کہ پندرہ سو کنبوں کونہ تو اسپتالوں کی جانب سے فراہم کی گئی سٹفکیٹ کومانا جاتاہے او نہ ہی انہیں اس بات سے انکار کیاجاتاہے کہ انہیں یہ امدادکی رقم فراہم نہیں کی جائے گی وہ اپنے گھربیٹھے انہیں تڑپایاجارہاہے ا سکے پیچھے کیامحرکات ہے ا س بارے میں انتظامیہ ہی کچھ کہہ سکتی ہے ۔