فورلین پروجیکٹ کومرکز کی منظوری،823.45کروڑ روپے مختص ،تعمیراتی کام پروجیکٹ بیکن کوتفویض :نتن گڈکری
سری نگر//مرکزی حکومت نے 104کلومیٹر سے زیادہ مسافت والی سری نگر،بارہمولہ،اوڑی قومی شاہراہ اول کوفور لین بنانے کے منصوبے کومنظور ی دیتے ہوئے اس اہم شاہراہ کے تعمیراتی کام کیلئے823.45کروڑ روپے مختص کئے ۔جے کے این ایس کے مطابق سری نگرکوشمالی کشمیر سے ملانے والی اہم قومی شاہراہ کوفورلین بنانے کے منصوبے کومرکزی سرکار نے ہری جھنڈی دکھادی ہے ۔مرکزی وزیر برائے روڑ ٹرانسپورٹ وہائی ویز نتن گڈکری سے منصوب ایک ٹویٹ سوشل میڈیا پر منگل کی شام سے گردش کررہاہے ،جس میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ سری نگر کوبراستہ بارہمولہ سرحدی علاقہ اوڑی سے ملانے والی قومی شاہراہ کوفورلین والی سڑک بنانے کے منصوبے کومنظوری دی گئی ہے اوراس کام پر لاگت کاتخمینہ بھی لگایاگیاہے ۔نتن گڈکری سے منصوب ٹویٹ میں لکھاگیا ہے ’’جموں وکشمیر میںسری نگر ،بارہمولہ ،اوڑی نیشنل ہائے وے اول یعنیNH-1کوچارلینوں والی پختہ شاہراہ بنانے کاتعمیراتی کام EPCیعنی انجینئرنگ ،پروکیورمنٹ اینڈ کنسٹرکشن موڈ کے تحت پروجیکٹ بیکنBROکے تحت 823.45کروڑ روپے کی لاگت کے تخمینے کیساتھ مکمل کیاجائے گا‘‘۔پرگتی ہائے وے ،گتی شکتی نعروں کیساتھ اس ٹویٹ کوجموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا،وزیراعظم آفس میں تعینات مرکزی وزیر ڈاکٹرجتندر سنگھ اوربھاجپا سے وابستہ ممبر پارلیمنٹ جگل کشور کے ناموں کیساتھ ٹیگ کیاگیاہے ۔اس دوران معلوم ہواکہ سری نگر ،بارہمولہ ،اوڑی قومی شاہراہ کوچارلین والی کشادہ شاہراہ بنانے کاکام جلد ہی پروجیکٹ بیکن کی جانب سے ہاتھ میں لیاجائیگا جبکہ اس حوالے سے کچھاہم زمینی کام پہلے ہی مکمل کیاگیا ہے یاکہ اس شاہراہ کیلئے درکاراراضی کے حصول کے کام کی نشاندہی کی گئی ہے ۔سرکاری ذرائع نے بتایاکہ نارہ بل سے اوڑی تک قومی شاہراہ کے دونوں اطراف فورلین شاہراہ کیلئے درکار اراضی کے حصول کویقینی بنانے کیلئے شاہراہ کے دونوں اطراف زمین حاصل کرنے کیساتھ ساتھ اس دائرے میں آنے والی سبھی قسم کی تعمیرات کوہٹایاجائیگاجبکہ سنگرامہ سمیت کچھ مقامات پر فلائی اوور کی تعمیر بھی زیرغور ہے ،جس کے لئے درکار اراضی کی نشاندہی کیلئے ضلع انتظامیہ بارہمولہ نے پہلے ہی محکمہ مال،محکمہ تعمیرات اورمحکمہ زراعت کے افسروں پرمشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ذرائع نے بتایاکہ اس کمیٹی میں پروجیکٹ بیکن کے افسر بھی شامل ہیں ،جو اسبات کی نشاندہی کریں گے کہ اُنھیں کس مقام پر کتنی اراضی درکارہے ۔ذرائع نے بتایاکہ پٹن قصبہ کے مین بازار کامعاملہ ضلع انتظامیہ کیلئے برسوں سے ایک اُلجھن بنا ہوا ہے ،کیونکہ یہاں کی تاجر برادری نے ا بتک کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیاہے اوراسی بناء پر ہانجی ویرہ پٹن سے پلہالن یاتاتر تک قومی شاہراہ کاایک بائی پاس بنانے کی تجویز بھی زیرغوررہی ہے جبکہ بارہمولہ میں دلنہ سے بارہمولہ قصبے تک بھی شاہراہ کے ایک حصے کوبائی پاس کی شکل میں بنانے کی تجویز حکام کے زیرغوررہی ہے ۔










