s jai shankar

یہ جنگ کا دور نہیں، عالمی تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات اور سفارت کاریواحد راستہ

دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس ضروری، عالمی مسائل کا حل بات چیت میں ہے// وزیر خارجہ جے شنکر

سرینگر// بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے دنیا بھر میں جاری تنازعات اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں مذاکرات اور سفارت کاری کو ہی مسائل کا واحد حل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ جنگ کا دور نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر ’’زیرو ٹالرنس‘‘ اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔یو این ایس کے مطابق بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں اپنی ہم منصب ویلیسلاوا پیٹرووا-چامووا کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ دنیا اس وقت غیر معمولی بے یقینی اور عدم استحکام کے دور سے گزر رہی ہے۔ ان کے مطابق مختلف خطوں میں بڑے تنازعات، اقتصادی سلامتی سے متعلق خدشات، کووڈ-19 وبا کے اثرات اور دہشت گردی کے مسلسل خطرات عالمی برادری کے لیے بڑے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا ان تمام معاملات پر واضح موقف ہے اور نئی دہلی مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ جے شنکر نے کہا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ کا دور نہیں ہے اور موجودہ تنازعات کا واحد قابل قبول حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔‘‘وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی جنوب (گلوبل ساؤتھ) کی ایک مؤثر آواز کے طور پر بھارت نے توانائی، خوراک اور کھاد سے متعلق ترقی پذیر ممالک کے خدشات کو بارہا عالمی فورمز پر اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو درپیش اقتصادی خطرات کا مقابلہ مضبوط اور متنوع سپلائی چینز کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔جے شنکر کے مطابق سمندری تجارت عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اور تجارت کی روانی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہونے دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سپلائی چینز میں تنوع اور لچک پیدا کرنا موجودہ عالمی اقتصادی حالات میں ناگزیر ہو چکا ہے۔انہوں نے کووڈ-19 وبا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بحران نے دنیا کو یہ سبق دیا ہے کہ بڑے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے گہرا بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق وبا کے دوران حاصل ہونے والے تجربات نے ثابت کیا کہ ممالک کے درمیان اشتراک اور ہم آہنگی ہی مشترکہ خطرات کا مؤثر جواب ہے۔یو این ایس کے مطابق دہشت گردی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی برادری کو اس معاملے میں دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا اور دہشت گردی کے خلاف مکمل عدم برداشت کی پالیسی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردی کسی بھی شکل میں قابل قبول نہیں ہونی چاہیے اور اس کے خلاف مشترکہ عالمی کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔جے شنکر نے بتایا کہ ان کی بلغاریہ کی وزیر خارجہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں مذکورہ تمام اہم عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور دونوں ممالک کے درمیان کئی معاملات پر مکمل ہم آہنگی اور یکساں سوچ پائی گئی۔قابل ذکر ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ 10 سے 11 جون تک بلغاریہ اور فن لینڈ کے دو ملکی دورے پر ہیں۔ اس دورے کا مقصد یورپی ممالک کے ساتھ بھارت کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا، مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا اور باہمی شراکت داری کو نئی وسعت دینا ہے۔