ہوائی پروازیں اور سیاحتی سرگرمیاں معمول کے حالات کی علامت نہیں : عمر عبداللہ

پنڈت کنبے اورپنڈت ملازمین کشمیر چھوڑ کرنہ جائیں
سری نگر//سیاحتی سرگرمیوں اور کشمیر کیلئے پروازوں کی تعداد کو معمول کی علامت نہ سمجھنے کی دلیل دیتے ہوئے ، نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ جموں و کشمیر میںسیکورٹی کی صورتحال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔انہوںنے کہا کہ خوف کی کیفیت ایسی ہے کہ پنڈت ملازمین اپنی ملازمتیں چھوڑ کر کشمیر سے بھاگنے کو تیار ہیں۔ جے کے این ایس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اورسابقہ ریاست جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے پارٹی کے جموں دفتر میں جمعہ کوایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہوائی پروازیں اور سیاحتی سرگرمیاں معمول کے حالات کی علامت نہیں ہیں۔ انہوںنے کہاکہ معمول یہ ہے کہ خوف اور دہشت نہ ہو۔ عمرعبداللہ نے اسبات پرزوردیاکہ پنڈتوں اورپنڈت ملازمین کوکشمیر چھوڑ کر بھاگنا نہیں چاہیے۔ سابق وزیراعلیٰ نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ پنڈت ملازمین اپنی نوکری چھوڑنے کو تیار ہیں۔ کیا یہ معمول ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈت ملازمین نے انصاف کے حصول کے لیے پیپلز الائنس (PAGD) کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ پیپلزالائنس کے لیڈر لیفٹنٹ گورنر کے پاس گئے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کشمیری پنڈت وادی کو نہ چھوڑیں۔عمرعبداللہ نے حکومت کے اس دعوے(کشمیر میں حالات معمول پر آگئے ہیں کیونکہ پتھراؤ میں کمی کے درمیان سیاحوں اور پروازوں کا بہت زیادہ رش ہے) سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے کئی بار پتھراؤ کو بھی کنٹرول میں لایا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ اگر کوئی ملازم مصروف دفتر میں اپنی سیٹ پر نشانہ بنتا ہے، یا گھر میں ایک پولیس اہلکار مارا جاتا ہے، اگر یہ معمول کا نیا چہرہ ہے، تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔عمرعبداللہ کاکہناتھاکہ ہمیں افسوس ہے کہ یکے بعد دیگرے بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں، اقلیتوں کو مارا جا رہا ہے، پولیس والے مارے جا رہے ہیں، کراس فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ میں عام شہری مارے جا رہے ہیں۔انہوں نے دفعہ370کی منسوخی کے بعد جموں وکشمیرمیںحالات معمول پر آنے کے دعوے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ اڈھائی سال گزر گئے، حالات میں بہتری کہاں ہے؟ ٹارگٹ کلنگ (ماضی میں) رک گئی تھی۔ مجھے یاد نہیں کہ پچھلی بار ٹارگٹ کلنگ کا سرکل کب ہوا تھا۔عمر عبداللہ کے بقول آج کشمیر میں لوگ خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملی ٹنسی ان جگہوں پر واپس لوٹ رہی ہے جن کو پہلے ملی ٹنٹ سرگرمیوں سے صاف کیا گیا تھا، خاص طور پر سری نگر اور اس سے ملحقہ علاقوں اور شمالی کشمیر میں۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ ’’حکومت کی طرف سے کہی جانے والی اور کی گئی باتوں میں بہت فرق آ گیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا’دی کشمیر فائلز‘فلم کی ریلیز کے بعد ٹارگٹ کلنگ شروع ہوئی، انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہوچکے ہیں اور انہوں نے گزشتہ سال سری نگر میںمشہور کرشنا ڈھابہ کے مالک کے بیٹے آکاش اوردوافروش مکھن لال بندرو کی ہلاکت کا حوالہ دیا۔عمرعبداللہ نے کہا کہ یہ لوگوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا اس فلم نے حالات کو بہتر کرنے میں کردار ادا کیا ہے یا اسے خراب کرنے میں۔جموں میں لاؤڈ سپیکر پر پابندی سے متعلق ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکام کو درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہئے تاکہ کیمونٹی کے جذبات مجروح نہ ہوں۔