پلہالن پٹن میں اپنی پارٹی کا تاریخی جلسہ، لوگوں نے سید الطاف بخاری کا والہانہ استقبال کیا
سرینگر//اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کی روایتی سیاسی جماعتوں کے برعکس اپنی پارٹی مکارانہ سیاست میں یقین نہیں رکھتی ہے اور نہ ہی ہم عوام کو جھوٹے وعدوں سے بہلانے کی کبھی کوشش کرتے ہیں۔ اپنی پارٹی کا ایجنڈا عیاں ہے، ہم جموں کشمیر کے امن، خوشحالی اور ترقی کے لئے کام کررہے ہیں۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق ان باتوں کا اظہار بخاری نے شمالی کشمیر کے پلہالن پٹن میں ایک پر جوش عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ جلسے میں مقامی لوگوں اور پارٹی کے کارکنوں نے سید الطاف بخاری اور دیگر لیڈروں کا والہانہ استقبال کیا۔ اس عوامی ریلی کا انعقاد پارٹی کے نوجوان لیڈر جاوید اقبال نے کیا تھا۔ اس موقعے پر نوجوان پارٹی کارکنوں نے پارٹی اور اسکے سربراہ کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کئے۔اس ضمن میں موصولہ بیان کے مطابق سید الطاف بخاری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ‘‘مجھے اس علاقے، جو دہائیوں تک تشدد کے ایک بدترین دور کا شکار رہا ہے، میں عوام کی بھرپور شرکت والے اس جلسے کو دیکھ کر بے حد خوشی ہورہی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ روایتی سیاسی جماعتوں اور ان کے سیاستدانوں نے اپنے نجی اور سیاسی مفادات کیلئے ہمیشہ یہاں کے عوام کا استحصال کیا ہے۔ لیکن آج اس جلسے میں آپ کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ اپنی پارٹی کے ایجنڈے یعنی امن اور ترقی کی حمایت میں یہاں جمع ہوگئے ہیں۔’’انہوں نے مزید کہا، ‘‘میں جانتا ہوں کہ پلہالن اس پورے خطے میں واحد علاقہ ہے، جہاں تعمیر و ترقی کا کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا ہے۔ بدقسمتی سے یہاں کے عوام نے خود روایتی سیاستدانوں کو دہائیوں تک اپنا سیاسی استحصال کرنے دیا ہے۔ ان لیڈروں نے جمہوری سیاست کے نام پر خود اپنے لئے عیش و عشرت کے تمام سامان پیدا کئے ہیں۔ انہوں نے اپنے رشتہ داروں کو سرکاری اداروں اور پرائیویٹ سیکٹر بینکوں میں ملازمتیں دلوادیں۔ ان کے بچے مغرب اور یورپ کے تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔ لیکن عام لوگوں کو انہوں نے ایندھن کی طرح استعمال کیا۔ میں یہ دیکھ کر بے حد دْکھ ہورہا ہے کہ پلہالن کے اس چھوٹے سے علاقے میں بھی دو سو سے زائد نوجوان اس وقت جیلوں میں بند ہیں۔ کیا ہمارے بچوں کے لئے صرف جیلیں اورقبرستان رہ گئے ہیں؟ لیکن یہ عوام کی بھی غلطی ہے کہ اْنہوں نے ہی روایتی سیاستدانوں کو اپنا سیاسی استحصال کرنے دیا ہے۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ا?پ اس استحصالی سیاست کے جھانسے میں آنے سے انکار کریں۔ میں چاہتا ہوں کہ جیلوں میں قید ہمارے نوجوان باہر آجائیں اور اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔’’دفعہ 370 اور 35 اے کا تذکرہ کرتے ہوئے سید الطاف بخاری نے کہا، ‘‘جو کچھ بھی 5 اگست 2019کو کیا گیا، اس نے ہم سب کو دْکھ پہنچایا ہے۔ لیکن میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اگر اپنے حقوق واپس حاصل کرنے ہیں تو وہ نئی دلی سے ہی کرنے ہوں گے، نہ کہ امریکا سے۔ جن لوگوں نے ہمارے لئے مسائل پیدا کئے ہیں، وہی ان کا حل بھی نکالیں گے۔اپنی پارٹی جموں کشمیر کے عوام کو اْن کے حقوق واپس دلانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی۔ تاہم ہم یہ نہیں چاہتے ہیں جو چیزیں پر امن سیاست کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہیں، ان کے لئے لوگوں کا خون بہہ جائے۔ اس لئے میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ مکار سیاستدانوں کے جھانسے میں نہ آئیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اْن کے نجی اور سیاسی فوائد کیلئے یہاں ہلاکتوں اور تباہی کا سلسلہ جاری رہے۔’جلسے میں اپنی پارٹی کے جو سینئر لیڈران موجود تھے، ان میں سینئر نائب صدر غلام حسن میر، صوبائی صدر کشمیر محمد اشرف میر، ضلع صدر بارہمولہ اور سابق رکن اسمبلی شعیب لون، سابق ایم ایل اے یاور میر، پارٹی کارڈی نیٹر برائے شمالی کشمیر فضل محمود بیگ، صوبائی سیکرٹری ا?فتاب ملک، صوبائی کنوینر لیگل سیل سجاد ابراہیم وانی، سابق صدر میونسپل کونسل بارہمولہ عمر ککرو، انتخاب احمد، خورشید خان، دلشاد احمد، غلام رسول ڈار، عبدالرشید سوپوری، عرفان خان، بشارت احمد اور دیگر لیڈران اور کارکنان شامل تھے










