نئی دہلی/ایجنسیز//مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے اندر بغاوت کے بعد اب مہاراشٹرا میں شیوسینا-ادھو ٹھاکرے گروپ کے اندر پھوٹ کی خبریں منظر عام پر آئی تھیں لیکن اب ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق شیو سینا ادھو ٹھاکرے گروپ سے تعلق رکھنے والے دو ممبران پارلیمنٹ نے رخ بدلنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان ممبران پارلیمنٹ نے کہا کہ وہ کہیں نہیں جا رہے ہیں اور ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ہی رہیں گے۔شیو سینا کے راجیہ سبھا ممبر سنجے راوت نے آج اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہماری پارٹی کے تمام ممبران پارلیمنٹ ہمارے ساتھ ہیں ہم نے اپنے تمام ممبران پارلیمنٹ سے بات کی ہے انہوں نے حلف لیا ہے کہ شیو سینا ان کی ماں ہے اور وہ کہیں نہیں جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی جانا چاہے تو وہ ضرور ایسا کر سکتے ہیں لیکن انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔سنجے راوت نے کہا کہ مہاراشٹرا کی عوام پارٹی چھوڑنے والے کسی بھی رہنما کو نہیں بخشے گی۔ راوت نے اس آپریشن کو آپریشن ٹائیگر کہا۔ قبل ازیں شیو سینا ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت لوک سبھا ایم پی اروند ساونت، چیف وہپ انیل دیسائی اور ناسک کے ایم پی راجا بھاؤ سنجے راوت کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ آپریشن ٹائیگر کے بارے میں سنجے راوت نے کہا کہ تقریباً 15 کروڑ روپے (150 ملین روپے) منگل کی رات کو ان ممبران پارلیمنٹ کے گھر پہنچائے گئے تھے۔سنجے راوت نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ اپنا سپنا منی-منی! راوت نے کہاکہ میں جانتا ہوں کہ ممبران پارلیمنٹ کو ہر ایک کو 15 کروڑ روپے دیئے گئے، جس کے بعد وہ تین مقامات سے چارٹر فلائٹس میں سوار ہوئے۔ ہم نے کل پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے لیے وہپ جاری کیا ہے۔ غور طلب ہے کہ شیو سینا کے یو بی ٹی ممبران پارلیمنٹ راجا بھاؤ وازے اور سنجے پاٹل مبینہ طور پر ڈپٹی سی ایم ایکناتھ شندے کے گروپ میں شامل ہو گئے تھے لیکن چہارشنبہ کو دونوں ممبران پارلیمنٹ نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا۔ ادھو ٹھاکرے کی طرف سے بلائی گئی میٹنگ میں صرف چار ممبران پارلیمنٹ نے شرکت کی، جس سے پارٹی کے اندر پھوٹ پڑنے کی افواہوں کو ہوا ملی۔










