1971میں قائم کی گئی چنگی کو ختم کیا گیا ، سیاحتی گاڑیوں کی براہ راست گلمرگ گنڈولہ تک رسائی ، ماحولیات کو بھی خطرہ
سرینگر//سیاحتی مقام گلمرگ میں گھوڑے والے ، پونے والوں ، ٹورسٹ گائیڈوںنے الزام لگایا ہے کہ انہیں روز گار سے محروم کیا گیا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ گلمرگ میں جو چنگی قائم کی گئی تو جہاں پر گاڑیوں کو کھڑا کیا جاتا اور وہاں سے گھوڑوں اور دیگر ذرائع سے سیاح ، گنڈولہ اور دوسری جگہوں تک پہنچ جاتے تھے اب وہ براہ راست گاڑیاں لیکر گنڈولہ اور دیگر پارکوں تک پہنچ جاتے ہیں جس سے نہ صرف ماحولیات کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق سیاحتی مقام گلمرگ میں 1971میں چنگی قائم کی گئی تھی جو رواں برس تک تھی اور اس جگہ سے سیاحتی گاڑیوں کو آگے جانے کی اجازت نہیں تھی اور سیاح اس جگہ سے گنڈولہ اور دیگر پارکوں تک گھوڑوں پر ، سیج اور دیگر ذرائع سے پہنچائے جاتے تھے جس کی وجہ سے وہاں پر کام کرنے والے مزدور ، سلیج والوں ، ٹورسٹ گائیڈوں ، پونے والوں ، گھوڑے والوں کی روزی روٹی چلتی تھی لیکن اب اس کو بند کردیا گیا ہے اور اب سیاح گاڑیاں براہ راست گنڈولہ تک پہنچ جاتی ہے جبکہ دیگر پارکوں تک بھی انہیں جانے کی اجازت دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں مزور بے روزگار ہوگئے ہیں۔ا س ضمن میں وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ پریذیڈنٹ بلال احمد لون نے بتایا کہ یہ چنگی 1971میں قائم کی گئی تھی اور آج چل قائم رہی لیکن اب اس کو ختم کیا گیا ہے جو نہ صرف ہمارے روزگار پر شب خون کے مترادف ہے بلکہ اس سے ماحولیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ یہاں پر 1771پونے والے ،سلیج 1200،گائڈ اور پوٹر 1500کی تعداد ہے جبکہ سکوٹی والے ایک سو سے زائد مزدور وغیرہ بھی 600کے قریب ہیں۔ جن کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں افراد خانہ بھی جڑے ہوئے ہیں ۔ ا نہوںنے بتایا کہ چونکہ یہ علاقہ وائلڈلائف کا ہے تو اس سے جنگلی حیات اور جنگلاتی ماحولیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے ۔انہوںنے اس ضمن میں متعلقہ حکام سے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔










