garmi

گرمائی لہر کے پیش نظر فائرسروس کی12نکاتی ایڈوائزری

بجلی کے استعمال میں احتیاط کرنے اور آتش گیر مادہ کو دور رکھنے کی انتباہ

سرینگر//جموں کشمیر میں گرمی کی لہر اور درجہ حرارت میں اضافے کے دوران آگ سے بچاؤ سے متعلق12نکاتی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے محکمہ فائر اینڈ سروس نے آتش گیر مواد و مائع، کچرے و پتوں کے ڈھیر اور گتے کو اپنے رہائشی علاقے سے ہٹا نے کے علاو ہ بجلی تاروں کو صاف رکھنے اور ساکٹوں کو اوورلوڈ نہ کرنے کی انتباہ کی۔وائس آف انڈیا کے مطابق جموں کشمیر بالخصوص صوبہ جموں میں درجہ حرات میں اضافہ اور گرمی کی لہر کو مدنظر رکھتے ہوئے، جموں اور کشمیر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ انتباہ کے پیش نظر جنگلوں میں آگ لگنے کا خطرہ بڑ گیا۔فائر اینڈ ایمرجنسی سروس کے ڈائریکٹر( ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس) آلوک کمار کی طرف سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا کہ احتیاطی تدابیر کے بعد آگ کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے فائر سیفٹی کے نقطہ نظر سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔12نکاتی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ وقفوں کے بعدبجلی سے چلنے والے آلات کو آرام دیں جبکہ گھروں سے باہر نکلتے وقت گھروں کی بجلی بند کر دیں۔ ایڈوائزری میں کہا گیا کہ فرنیچر، قالین وغیرہ کے نیچے اور پلاسٹک کی چادروں یا آتش گیر اشیاء کے قریب بجلی کی تاریں لگانے سے گریز کریں اور دیا سلائی( ماچس) اور لائٹر وں کوبچوں کی شرارت کے پیش نظر انکی نظروں سے دور رکھیں۔ مزید کہا گیا کہ بجلی استعمال کرنے سے متعلق مصروف اوقات میں کھانا پکانے سے گریز کریں جبکہ کھانا پکانے کی جگہوں تک مناسب طریقے سے ہوا پہنچنے کے لیے دروازے اور کھڑکیاں کھولیں۔آلوک کمار کی جانب سے جاری مشارکی میں کہا گیا کہ سگریٹ کے بٹوں کو پانی سے ڈبوئیں اور انہیں فائر پروف کنٹینروں میں رکھیں جبکہ زمین پر قطعی نہ پھینکیں۔انکا کہنا تھا کہ کام مکمل ہونے پر آگ کے گڑھوں اور کیمپ فائر کو بجھا دیں جبکہ کچرے کو جلانے کے لیے مقامی قوانین پر توجہ دیں۔ ایڈوازیری میں مزید کہا گیا کہ آتش گیر مائعات کا استعمال کرتے وقت احتیاط برتیں اور اپنی چلتی گاڑی سے جلتے ہوئے سگریٹ کو لاپرواہی سے باہر نہ پھینکیں۔محکمہ فائر اینڈ ائمرجنسی سروس کی طرف سے جاری ایڈوازیری میں کہا گیا کہ کوڑے دانوں کو جلتی حالت میں نہ چھوڑیں جبکہ کاشتکار کوڑے کو جلانے سے گریز کریں،تاہم ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر اپنی موجودگی میں اسے مکمل طور پر جلا دیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس کے دوبارہ بھڑکنے کا کوئی امکان نہ ہو۔