traffic jaam

گرمائی دارلخلافہ سرینگر سمارٹ سٹی میں تبدیل ہونے کے باوجود ٹریفک جام سے دو چار

سرکاری ملازمین ،تاجروں، طلاب کوبالعموم مریضوں کوبالخصوص پریشانیوں کاسامنا

سرینگر//شہر سرینگر میں ٹریفک جام کی انتہاء ،طلاب تاجروں ،مزدوروں کوبالعموم اور بیماروں کوبالخصوص پریشانیوں کاسامنا ،سرینگر میں نصب تمام ٹریفک سنگنل یاتوبیکار ہے یا انہیں استعمال ہی نہیں کیاجاتاہے آور ٹیکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی عروج پرہے ۔اے پی آئی نیوز ڈیسک کے ساتھ شہرسرینگر کے مختلف علاقوں سے رہنے والے لوگوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ انہیں اُمید تھی کی سمارٹ سٹی کا قیام عمل میں آنے کے بعد لوگوں کوضرور نجات ملے گی اور سمارٹ سٹی میں ٹریفک محکمہ متحرک ہوگا تاکہ سمارٹ سٹی کاجومطلع ہے وہ نظرآئے تاہم ماضی کے مقابلے میں ٹریفک جا م سے حد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔سونہ وار ڈلگیٹ، لال چوک بٹہ مالوں ،قمرواری کے علاوہ ڈاون ٹاون سرینگر کے بیشتر علاقوں میں صبح دس بجے سے دن کے 12:30تک اور چار بجے سے 7:00تک سخت ترین ٹریفک جام ہونے کے باعث لوگوں کو مشکلوں کا سامناکرنا پڑتاہے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے والے مسافر گھنٹوں گاڑیوںمیںدرماندہ ہوجاتے ہیں اور ا س وقت کے دوران طلاب ،تاجر، مزدور ،سرکاری ملازمین بالعموم اور مختلف علاقوں سے ایمبلنسوں میں جن مریضوں کوریفر کیاجاتاہے وہ بر وقت اسپتالوں تک نہیں پہنچ پاتے ہے جسے ان کی حالت مزید متغیرہوتی ہے ۔وادی کشمیرمیں ٹریفک جام کے دوران کئی خواتین نے ایمبلنسوں میں بچوں کوبھی جنم دیا کئی مریض آکسیجن کی کمی کے باعث ٹریفک جام میں پھنس کراپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے اور جب اس طرح کے واقعات رونماء ہوتے ہے او رمتعلقہ ادارے کی آنکھیں کھل جاتی ہے ایک دم کئی گھنٹوں تک ٹریفک عملے کومتحرک کیاجاتاہے تاہم یہ صورتحال رات گئی بات گئی کے مسداق ہوتی ہے ۔لوگ بھول جاتے ہیں اورصورتحال پھروہی ہوتی ہے ۔ٹریفک جا م کی کئی وجوہات ہے اور اس کے لئے کئی اداروں کو متحرک ہوناضروری ہے ۔ٹریفک جام کی سب سے بڑی وجہ غیرقانونی کا ر پارکنگ اور کوئی بھی پارکنگ سہولیات حاصل نہیں کرنا چاہتا ہے یاشہرسرینگر میں ا سقدرپار کنگ دستیاب نہیں ہے جسکی ضرورت ہے ۔اب ان مسائل میں کو ن صحیح ہے ا سکے بارے میں سرکا ر اور عام لوگ فیصلہ لے سکتے ہیں۔ دوسری وجہ گنجان والے ا و ربیڑبھاڈ والے بازار چھاپڑی فروشوںسے بھرے پڑے ہے ،حالانکہ ان علاقوں میں سرکار نے فٹ پاتھوں پرقبضہ جمانے والوں نے بار انہیںاپنی پیٹ کی آ گ کوبجھانے کے لئے دوسری جگہوں پرمنتقل بھی کیاباپ نے فٹ پاتھ چھوڑا بیٹے نے اس پرقبضہ کیااب بیٹے کومنتقل کیاگیا توپوتے نے ا سکی جگہ لے لی یہ سلسلہ بھی دراز ہے اس پرقابو پانے یاا سے ختم کرنے کے لئے متعلقہ ادارہ سنجیدہ نہیں ہے اس کی وجہ کیاہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ٹریفک جام کی ایک اور وجہ دوکانداروں کی جانب سے فٹ پاتھوں اور سڑکوں پراپنامال سجانے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔دوکاندار سڑک او رفٹ پاتھ کواپنی میراث تصور کرتے ہیں او رکسی عام شہری کوا سکے خلاف آواز بلندکرنے کی اجازت نہیں ہے ۔رواں برس کے ابتداء میں میونسپل کمشنرسرینگر نے فٹ پاتھوں کو خالی کرانے کی مہم شروع کرائی تھی تاہم اس مہم کو ٹھنڈے بستے میں کیوں ڈال دیاگیا یہ سمجھ سے بالاتراہے ۔کئی غیرملکی سیاحوں نے بھی سرینگر اور سرینگر کے علاوہ دوسرے علاقوں میں ٹریفک جام پرحیرانگی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ جدیدٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کیاجارہا ہے حالانکہ وسائل دستیاب ہے سڑکوں کوکشادہ بھی کیاجارہاہے تاہم ا س کے باوجود لوگو ںکو ٹریفک جام کاسامناکرنا پڑتاہے ۔جس بڑے پیمانے پر شہرسرینگر یادوسرے بڑے شہروں قصبوں میںٹریفک جام نے شدت اختیارکی اسے اب یہ ممکن ہے اب لوگ ماضی کی طرح پیدل سفر کرنے کوہی ترجیح دیگے اور دیہات سے جن لوگوں کوسرینگر آناہو تووہ دو دن پہلے اپنے گھر سے نکلے گے او رپیدل سفر کرکے مقام تک پہنچنے کی کوشش کرینگے ۔محکموں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان مشکلات کاازالہ کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جن سے لوگوں کوپریشانیوں کاسامناکرنا پڑرہاہیں۔ لوگ یہ نہیںجانتے کہ سرینگر میں افرادی قوت کی کمی ہے۔ ٹریفک محکمہ میں ہر علاقے میں ٹریفک پولیس کو تعینات کرناان کے بس کی بات نہیں ہے ٹرانسپورٹ محکمہ اپنے دفتر سے باہرنکلنے کے لئے تیار نہیں تین بڑے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جسکی وجہ سے اس کی سزا شہریوں کوبگھتنے پرمجبور ہونا پڑرہاہیں ۔