گاندربل میں چیری کی چنائی زوروں پر، ریکارڈ پیداوار کی امید

گاندربل میں چیری کی چنائی زوروں پر، ریکارڈ پیداوار کی امید

گاندربل کشمیر کی 60 فیصد چیری پیداوار کا مرکز، ہزاروں کسان وابستہ

سرینگر//یو این ایس// ضلع گاندربل میں چیری کی فصل کی توڑائی کا عمل تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ وادی کے سب سے بڑے چیری پیدا کرنے والے اضلاع میں شمار ہونے والے گاندربل میں اس سال کسانوں کو ریکارڈ پیداوار کی امید ہے، تاہم منڈی میں کم قیمتوں نے باغ مالکان اور کاشتکاروں کو فکر مند بنا دیا ہے۔کشمیر کی باغبانی معیشت میں چیری کو ایک اہم مقام حاصل ہے، خاص طور پر اسٹرابیری کی فصل کے بعد بازار میں آنے والا یہ پہلا مقامی پھل ہوتا ہے۔ ہر سال چیری کی آمد سے نہ صرف مقامی منڈیوں میں رونق بڑھ جاتی ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی بھی اس سے وابستہ ہوتی ہے۔امسال گاندربل کے مختلف علاقوں میں چیری کی فصل اچھی رہی ہے اور باغ مالکان بمپر پیداوار کی توقع کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آئندہ دو ہفتوں کے دوران چیری کی توڑائی اپنے عروج پر پہنچ جائے گی جبکہ یہ سلسلہ جون کے وسط تک جاری رہنے کا امکان ہے۔فی الوقت ’’اول نمبر‘‘ اور ’’ڈبل‘‘ اقسام کی چیری کی توڑائی جاری ہے جبکہ مقبول اور اعلیٰ معیار کی ’’مشری‘‘ قسم جون کے پہلے ہفتے میں تیار ہو جائے گی۔یو این ایس کے مطابق اس کے علاوہ ’’مخملی‘‘ قسم کی چیری بھی بعد میں منڈیوں میں دستیاب ہوگی، جس کی دیگر ریاستوں میں خاصی مانگ رہتی ہے۔ضلع گاندربل کے لَر، ولیوار، چونٹ ولیوار، گٹلی باغ، زازنہ، گلاب پورہ، وکورہ، ڈب، بٹوینہ اور کنگن کے کئی علاقے چیری کی پیداوار کے اہم مراکز سمجھے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں سینکڑوں ایکڑ اراضی پر چیری کے باغات قائم ہیں اور حال ہی میں یہ باغات مکمل طور پر پھولوں سے لدے ہوئے تھے۔گرچہ فصل کی توڑائی کا عمل شروع ہو چکا ہے، تاہم کسانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ مارکیٹ میں چیری کی قیمتیں توقعات سے کہیں کم ہیں۔ گٹلی باغ کے ایک باغ مالک محمد اکبر نے بتایا کہ اس سال فصل کافی اچھی ہے لیکن منڈی میں قیمتیں مایوس کن ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں امید تھی کہ اس سال بہتر نرخ ملیں گے کیونکہ فصل کی پیداوار زیادہ ہے، لیکن ابھی تک مارکیٹ میں قیمتیں کم ہیں جس سے کسان پریشان ہیں۔‘‘یو این ایس کے مطابق باغبانی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران کورونا وبا، نقل و حمل میں رکاوٹوں اور خراب موسمی حالات کے باعث انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ حالیہ برسوں میں ڑالہ باری اور غیر متوقع موسمی تبدیلیوں نے بھی باغات کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں پیداوار اور آمدنی دونوں متاثر ہوئیں۔چیری کے ایک اور کاشتکار جہاں زیب عالم نے کہا کہ اس سال وادی میں چیری کی غیر معمولی پیداوار متوقع ہے، لیکن کم طلب اور گرتی ہوئی قیمتوں نے باغ مالکان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کشمیر میں بنیادی طور پر چار اقسام کی چیری پیدا کی جاتی ہیں جن میں اول نمبر، ڈبل، مشری اور مخملی شامل ہیں۔یو این ایس کے مطابق مشری اور مخملی اقسام اپنی اعلیٰ کوالٹی کی وجہ سے ملک کی مختلف ریاستوں کو بھیجی جاتی ہیں اور ان کی مارکیٹ میں خاصی مانگ رہتی ہے۔ماہرین کے مطابق چیری ایک نہایت نازک اور جلد خراب ہونے والا پھل ہے جس کی ذخیرہ اندوزی محدود مدت تک ہی ممکن ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی فوری نقل و حمل اور بروقت مارکیٹنگ انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ اگر فصل وقت پر منڈیوں تک نہ پہنچے تو کسانوں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ضلع گاندربل کو کشمیر میں چیری کی پیداوار کا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع میں تقریباً 1200 ہیکٹر اراضی پر چیری کی کاشت کی جاتی ہے اور وادی کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 60 فیصد حصہ اسی ضلع سے حاصل ہوتا ہے۔باغبانی محکمہ کے ذرائع کے مطابق گاندربل میں تقریباً پانچ ہزار خاندان براہ راست چیری کی کاشت سے وابستہ ہیں اور ہزاروں مزدور بھی اس سیزن کے دوران باغات میں کام کرکے روزگار حاصل کرتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق کاشتکاروں نے حکومت اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ چیری کی مناسب مارکیٹنگ، بہتر ٹرانسپورٹ سہولیات اور بیرونِ ریاست منڈیوں تک فوری رسائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ انہیں اپنی محنت کا مناسب معاوضہ مل سکے اور باغبانی شعبے کو مزید فروغ حاصل ہو۔