ہندوارہ//کشمیروادی کے دوسرے کئی علاقوں کیساتھ ساتھ ضلع کپوارہ میں جہاں زمینداری کھیتی باڈی کا سلسلہ عروج پر ہے اور لوگ دھان کی پنیری لگانے میں مصروف عمل ہیں لیکن ضلع کپوارہ اور ہندوارہ کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں کھیتوں کی سنچائی کیلئے پانی میسر نہیں اور محکمہ اری گیشن ٹس سے مس نہیں ہورہاہے اور لوگوں میں سخت تشویش کی لہر پائی جارہی ہے اور ہر گاوں علاقے کے لوگوں کھیتوں میں پانی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے پریشان اور نالاں ہیں۔جے کے این ایس نامہ نگار طارق راتھر کے مطابق متاثرہ دیہات کے لوگوں کا کہنا ہے کہ محکمہ ارگیشن کی عدم توجہی اور لاپروائی کی وجہ سے ضلع کپوارہ اور ہندوارہ کے کئی علاقوں میں دھان کی کھیت بنجر میں تبدیل ہوجائے گی ادھر ماگام،سوڈل،شہلال،ہارنی ہورہ،واری پورہ،گونی پورہ،واسکورہ،ہندوارہ،ککروسہ،تارت پورہ، شرہامہ لاچھ ماور لینگٹ کا زمین کا بڑا حصہ سیچائی کے بغیر ہے۔ انہوں نے کہا اگر کھیتوں میں پنیری لگائی گئی لیکن اس میں پانی نہ ہونی کی نتیجے میں اس کی ہیت کافی خرابی ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ادھر قلم آباد ماور کے لوگوں نے محکمہ پر الزام لگاتے ہوئے کہ متعلقہ محکمہ نے کچھ سال قبل یہاں آپباشی کول کی صفائی کی تھی اور اب کئی سال سے مذکورہ کول کی صاف صفائی نا کھدائی کی گئی جس سے کول کافی خستہ ہوگئی جس کے نتیجے میں اس ندی پر قریب دس ہزار کنال زرعی اراضی تباہی کے دہانے پر ہے مقامی لوگوں نے بتایا کہ اگر چہ اس حوالے سے کئی بار متعلقہ محکمہ افسران ملازمین کو اگاہ کیا لیکن انہوں نے کہا اس ندی کو بلاک کو سونپ دیا گیا اور اب اس ندی کی صاف صفائی کا کام بلاک ہی کریگا لیکن ایک سال پہلے محکمہ ارگیشن نے پھر سے اس ندی پر کئی کئی جگہوں پر کرایڈ لگائے ہیں لوگوں کا کہنا ہے اگر کچھ سال ہہلے ارگیشن محکمہ نے اس ندی کو بلاک کے حوالے کیا تو اب ہھر سے ارگیشن نے اس پر کرریڈ کیوں لگائے ہیں اس پر نرمت کا کام کیوں کیا ؟۔انہوں نے جب پیسے نکالنے ہے تو اگیشن اس ندی پر کام کررہااور جب اس کی صاف صفائی اور لوگوں کی زرعی اراضی کو سنچائی کرانے ہو تو ارگیشن۔محکمہ اس ندی پر کام کرنے سے انکار کرتا ہے۔ادھر ماگام سے گونی پورہ ہندوارہ تک کھیتوں میں پانی نہ ہونے کے نتیجے میں کسان سخت پریشانی میں مبتلا ہے اور محکمہ آبپاشی اور ارگیشن کے اعلی افسران سے مانگ کررہے ہیں کہ یہاں پانی کھیتوں میں پانی بحال کیا جائے اور ارگیشن پمپ چالو کیے جائے تاکہ ان کسانوں کی زرعی اراضی تباہی سے بچ جائے لوگوں نے محکمہ ارگیشن کی عدم توجہی اور لاپروائی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ جس کام کیلئے ارگیشن محکمہ کو پیسے ریلز کئے جاتے ہیں محکمہ کول کا اتنا ہی کام کرتے ہے جبکہ اگر دیکھا جائے رامحال سے گونی پورہ تک ڈانگرواری کول پر کئی بار رقومات نکالی گئی لیکن اس پر کئی کئی جگہ پر کام کیا گیا باقی اس کول کو وسے ہیچھوڑ دیا گیا ادھر لوگوں نے ضلع انتظامیہ خاص طور ڈپٹی کمشنر کپوارہ خالد جہانگیر سے مطالبہ کیا کہ زرعی اراضی کی سنچائی کیلئے فوری طور پانی کا بدوبستہ کرایا جائے اور محکمہ ارگشن کے افسران ان فیلڈ ملازمین کی لگام کس کرکے ان سے باضابطہ کام اور حساب لیجائے کیونکہ محکمہ کی عدم توجہی کے باعث ہی ہزاروں کنال زرعی اراضی تباہی کے دہانے پر ہے دریں اثنا نمائندے نے جب اس معاملے کے حوالے سے محکمہ ارگیشن کے افسران سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا جلدی پانی بحال کردیا جائے گا۔










