کپوارہ ضلع میں موسلا دھار بارشوں سے پیدا شدہ سیلابی صورتحال

سڑکیں زیر آب آنے سے کئی علاقوں کاضلع ہیڈ کواٹرس سے رابطہ منقطع

ہندوارہ//کپوارہ ضلع کے بالائی علاقوں میں تازہ برف باری اور میدانی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں سے دریاؤں اور دیگر ندی نالوں میں طغیانی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس سے کئی گاوں دیہات اہم رابطہ سڑکیں زیر آب آگئی ہے ،جس سے لوگوں کا گھروں سے باہر نکلنا محال ہوگیا ہے۔ جے کے این ایس نامہ نگار طارق راتھر کے مطابق ڈپٹی کمشنرکپوارہ خالد جہانگیر نے کپوارہ کے کئی علاقوں کا دورہ کیا جس میں ترہگام علاقہ شامل ہے جہاں حالیہ موسلادھار بارشوں سے دریا کہمیل میں طغیانی آنے کے نتیجے میں ایک اہم رابطہ پل ڈھ گیا تھا۔ بعد ازاں ڈی سی کپوارہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہندوارہ نذیر احمد ودیگر تحصیل افسران ہندوارہ کے پٹھواری واری نوگام۔یہامہ کے علاقوں کا دورہ کیا اور یہاں موسلادھار بارشوں سے پیدا شدہ سیلابی صورتحال کا از خود جائزہ لیا اور اپنے ہمراہ افسران پر زور دیا کہ وہ فلفور ان نقصان زدہ پلوں پر مرمت کا کام شروع کرے اور دریاوں ندی نالوں کے آس پاس رہنے والے لوگوں کو ہدایت دی کہ وہ بارشوں کے دوران گھروں باہر آنے سے گریز کرے خاصکر بچوں کو گھروں سے باہر نکلنے نا دیں ادھر بالائی علاقوں کے لوگوں کو بھی مشورہ دیا گیا کہ وہ گھروں سے باہر زیادہ گھومنے پھرنے سے گریز کرے اور نالوں کے نزدیک جانے سے بھی احتیاط برتے۔دریں اثنا ڈی سی کپوارہ نے بنگس میں موجودہ لوگوں گجربکروالوں سے ہمارا رابطہ براہ راست ہے اور اگر وہاں زیادہ موسمی صورتحال بگڑ گئی تو ان کے لئے بھی انتظامیہ اقدامات کئے جائے گے۔ادھر بی ڈی سی چیرمین لنگیٹ شوکت حسن پنڈت نے اپنے پی آر ائز کے ہمراہ لنگیٹ کے کئی علاقوں کا دورہ کیا اور یہاں سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا انہوں نے کہا انتظامیہ کی ٹیمیں علاقوں میں متحرک ہے اور فلحال صورتحال کا جائزہ لیا جارہا یے اور اگر کئی پر پانی بستی میں داخل ہوا اس کو نکالنے کیلئے بھی انتظامات کئے جارہے ہیں انہوں نے کہا فلحال صورتحال بہتر ہے اورامید یہی کی جاریی ہیموسم جلد سازگار ہو۔ادھر ترہگام کپوارہ کا پل کو نقصان پہنچا ہے جس سے دوسرے علاقے کا رابطہ مکمل طور کٹ کے رہ گیا ہے۔ ادھر وادی بنگس میں دو سے تین انچ ریکارڑ کی گئی جس سے وہاں موجودہ مویشوں بھیڑ بکروں کے ساتھ لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑاتاہم سہ پہرسے بارشوں کا سلسلہ تھم گیا اور ندی نالوں سے پانی کا بہاو نیچے اترنے لگا۔