9کمسن بچے جسمانی طور پر ناخیز یامعذور،کوئی چل نہیں سکتا،کوئی اُٹھ نہیں ،کوئی بیٹھ نہیں سکتا،کوئی سن نہیں سکتا
کولگام //کولگام کے ایک مضافاتی گائوں پرانہال کو کسی نامعلوم بیماری نے جکڑ لیاہے ،کیونکہ یہاں کم سے کم 9بچے مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلاء ہوکرعملاً جسمانی طور پر ناخیز بن گئے ہیں ،جن میں سے 6اور7سال کے 2بچے چندی گڑھ میں زیرعلاج ہیں ۔جے کے این ایس نمائندے نے ضلع ہیڈکوارٹر کولگام سے 14کلومیٹر فاصلے پرواقع علاقے پرانہا ل میں جاکر لوگوں سے بات کی ۔اس پسماندہ گائوں ،جہاں گوجر برادری کے10سے 15گھرانے مقیم ہیں ،کا کل جغرافیائی رقبہ 51.8 ہیکٹر ہے۔ پرانہال کولگام کی کل آبادی تقریباً600 افراد پر مشتمل ہے جس میں سے مردوں کی آبادی 307 ہے جبکہ خواتین کی آبادی 288 ہے۔ پرانہال گاؤں کی شرح خواندگی 57.82فیصد ہے جس میں سے69.06فیصد مرد اور 45.83فیصد خواتین خواندہ ہیں۔اس پسماندہ گائوں میں کچھ عجیب سے صورتحال پائی جاتی ہے ،کیونکہ بچے صحت مندپیداہونے کے بعد پھر چھ سال کی عمرمیں کسی نامعلوم مرض میں مبتلاء ہوکر جسمانی طور پرناخیز یامعذور بن جاتے ہیں ۔پرانہال کولگام میں ایسے تقریباً9بچے ہیں ،جن میں کوئی پولیوکاشکار ہے ،کوئی خود اُٹھ نہیں سکتا ،کوئی بیٹھ نہیں سکتا،کوئی سن نہیں سکتا ،اور کوئی بول نہیں سکتا ہے ۔مقامی لوگوںنے بتایاکہ ہم گوجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں اورشیڈولڈٹرائب زمرے میں آتے ہیں ،لیکن ہمارے یہاں کے مردزیادہ تردوسرے علاقوںمیں جاکر محنت مزدوری کرکے ہی گھریلو ضروریات کوپورا کرنے کی سعی میں لگے رہتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ یہاں 9بچے نامعلوم بیماری میں مبتلاء ہونے کے بعد جسمانی طور پر معذور بن گئے ہیں جبکہ یہ سبھی بچے پیدائش کے وقت ٹھیک اور صحت مند بھی تھے ۔ایک مقامی نوجوان محمداعظم چوپان نے کہاکہ اُس کاپہلاہی بچہ جسمانی طور پر معذور پیداہو اہے ،اوراُسکی سمجھ میں نہیں آتاکہ وہ اس بچے کاکہاں جاکرعلاج کروائے ۔ویل چیئر پر بیٹھے تقریباً15سال کے ایک لڑکے ،کی ماںنے بتایاکہ پیداہونے کے بعد یہ چھ سات سال تک صحت مندتھا،اور پھراچانک اسکی یہ حالت ہونا شروع ہوگئی ۔4بچوںکی ماں نے کہاکہ اُس کے دوبچے یہاں موجودہیں ،اوردونوں جسمانی طور پر ناخیز ہیں جبکہ باقی2بچے جن کی عمرچھ اورسات سال ہے، چندی گڑھ میں زیرعلاج ہیں ۔ایک بزرگ شہری غلام محمد چوپان کاکہناتھاکہ ہمارے یہاں بچے نہ جانے کس بیماری میں مبتلاء ہوتے ہیں ،اورکیوں ،ہم کچھ نہیں جانتے ۔ایک مقامی خاتو ن سماجی کارکن منیرہ نے کہاکہ ایک مرتبہ محکمہ صحت کی ایک ٹیم یہاں آئی تھی ،اورانہوںنے ضروری مددکایقین بھی دلایا تھا لیکن پھر محکمہ صحت کے کسی افسر ،داکٹر یاملازم نے مڑکر بھی اس گائوںکی طرف نہیں دیکھا ۔منیرہ بیگم نے لیفٹنٹ گورنر اور ڈپٹی کمشنر کولگام سے فوری توجہ دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں باقی بچوںکی فکر ہے اور ہم اپیل کرتے ہیں کہ گائوںکے بچوںمیں پیداہونے والی یا پھیلنے والی نامعلوم بیماری کاپتہ لگانے کیلئے ڈاکٹروںکی ایک ٹیم یہاں بھیجی جائے ۔خاتون سماجی کارکن نے کہاکہ ہم ان بچوں اور نئی آنے والی نسل کی فکر ہے ،اور ہم اپیل کرتے ہیں کہ کوئی ہماری بات بھی سنے ،کوئی ہماری اس مشکل کاحل تلاش کرے ۔










