بجلی کی آنکھ مچولی دن بھر جاری ،محکمہ کے خلاف لوگوں میں شدید غم و غصہ
سرینگر//جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑرہا ہے ۔ لوگوں کے مطابق محکمہ کی جانب سے بجلی کی ترسیل ایک مذاق بن کے رہ گئی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جیسے ہی کشمیر میں سردی نے اپنا آغاز کیا ہے اور خطے میں درجہ حرارت میں زبردست گراوٹ ہو رہی ہے، وادی میں ہر سال کی طرح اس سال بھی بجلی کی مسلسل کٹوتی دیکھی جا رہی ہے، جس سے لوگوں میں غم و غصہ پھیل گیا ہے۔کشمیر کے دیہی اور شہری علاقوں سمیت جنوب سے شمال تک بجلی کے موجودہ بحران نے لوگوں کو پریشانی کا سامنا۔وادی کے لوگوں کی شکایت ہے کہ وہ بجلی کے بڑھے ہوئے چارجز، ٹیکس اور بل ادا کر رہے ہیں، پھر بھی انہیں جو بجلی مل رہی ہے وہ کم ہے۔ وادی میں بجلی کے بحران میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اگرچہ انتظامیہ بجلی میں بہت زیادہ ترقی کرنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن بجلی میں ہونے والی تبدیلیاں زمین پر مشکل سے نظر آتی ہیں۔ صورت حال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ ادھر کولگام کے کنڈ علاقے کے ایک رہائشی عرفان احمد نے اوردیوسر کے ایک اور رہائشی نے وائس آف انڈیا کے نمائندے غلام نبی کھانڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں پاور ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ وعدہ کر رہا ہے کہ وہ بجلی کی تاروں کو زیر زمین بنانے کا کام کر رہے ہیں تاکہ رہائشیوں کو سردیوں میں کٹوتیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اب ہم گرمیوں اور سردیوں میں بھی تکلیف اٹھا رہے ہیں۔ پاور ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے صارفین کا کہنا ہے کہ موسم خزاں کے آغاز کے ساتھ ہی کشمیر میں بجلی کی صورتحال ابتر ہو گئی ہے اور طلباء کو بار بار بجلی کی کٹوتی کی وجہ سے بدترین پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔نوراباد علاقے کے رہائشی محمد یوسف نے دعویٰ کیا کہ بجلی کے ملازمین صرف فیس کی وصولی کے وقت نظر آتے ہیں اور بعد میں غائب ہو جاتے ہیں کیونکہ وادی میں بجلی کا کوئی شیڈول نہیں ہے۔ محمد یوسف نے کہاکہ بجلی کے نظام الاوقات کو ‘خفیہ طور پر’ راتوں رات تبدیل کر دیا جاتا ہے اور اگرچہ مقامی روزناموں میں بلند و بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن زمین پر، ہر دعویٰ بے معنیٰ ثابت ہو جاتا ہے۔عوام نے محکمہ بجلی کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور انتظامیہ اور نوکرشاہوں سے وادی میں بجلی کے بحران کو دور کرنے کے لیے کہا ہے۔ کولگام کے ایک رہائشی عاقب نے کہاکہ صوبہ جموں سردیوں میں بجلی سے چمکتا ہے تو پھر وادی میں بجلی کیوں نہیں ہے جہاں سردیوں میں اس کی ضرورت ہے۔‘‘مقامی لوگوں نے شکایت کی کہ جب وادی میں ڈیجیٹل میٹر لگائے گئے تو وہاں کے مکینوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ بجلی کی سپلائی میں کوئی غیر ضروری کٹوتی نہیں کی جائے گی اور صارفین کو 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی لیکن یہ وعدہ بھی زمین پر سراب ثابت ہوا، مکینوں نے بجلی کی صورتحال کو فوری طور بہتر کرنے کا مطالبہ کیا۔










