کشمیر میں گوشت کی قیمتیں بے قابو، صارفین نالاں

کشمیر میں گوشت کی قیمتیں بے قابو، صارفین نالاں

ضابطہ بندی کے خاتمے کے بعد من مانی قیمتیں، عوام میں شدید تشویش

سرینگر// یو این ایس// وادی میں گوشت کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں عید الفطرپراچانک ریٹ بڑھا کر 740 روپے فی کلو؎ پہنچا دیا اور بعد میں اس کو برقرار بھی رکھا گیا۔ صارفین نے اس صورتحال پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کیلئے کوئی مؤثر ضابطہ بندی یا نگرانی کا نظام موجود نہیں۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دہائیوں کے دوران مٹن کی قیمتوں میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔ 1995 میں یہی گوشت صرف 80 روپے فی کلو فروخت ہوتا تھا، جبکہ اب قیمتوں میں تقریباً 900 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو دیگر اشیائے ضروریہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔یو این ایس کے مطابق حالیہ برسوں میں بھی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2023 میں قیمتوں کی سرکاری ضابطہ بندی ختم ہونے سے قبل مٹن تقریباً 535 روپے فی کلو دستیاب تھا، تاہم اس کے بعد قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ ضابطہ بندی ختم ہونے کے بعد مارکیٹ میں ’آزادانہ قیمتوں‘ کا نظام قائم ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں دکاندار اپنی مرضی کے مطابق نرخ مقرر کر رہے ہیں۔کئی خریداروں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’اب کوئی ایسا ادارہ نہیں جو قیمتوں پر سوال اٹھا سکے۔‘‘دوسری جانب تاجر حضرات قیمتوں میں اضافے کی وجہ ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافہ، سپلائی کی کمی اور دیگر پیداواری لاگت کو قرار دیتے ہیں، تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ غیر متناسب اور ناقابل برداشت حد تک زیادہ ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق مٹن جیسی بنیادی خوراک کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کیلئے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے خطے میں جہاں گوشت روزمرہ خوراک کا اہم حصہ ہے۔عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر ایک واضح ریگولیٹری فریم ورک یا نگرانی کا نظام قائم کرے تاکہ قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے اور صارفین کو استحصال سے بچایا جا سکے۔