MS Bhatia

کشمیر میں ملی ٹنٹ مخالف کارروائیوں کے دوران اعلیٰ ٹیکنالوجی والے آلات اورگاڑیوں کااستعمال

کچھ مخصوص حالات میںMP-5 رائفلوں کابھی استعمال: آئی جی سی آرپی ایف آپریشنز کشمیر ایم ایس بھاٹیہ

سری نگر//مرکزی پولیس فورس (سی آرپی ایف) کے آئی جی آپریشنز کشمیر ایم ایس بھاٹیہ نے جمعرات کوکہاکہ ملی ٹنسی مخالف کارروائیوں کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے سی آر پی ایس میں بلٹ پروف گاڑیاں، وال تھرئو ریڈار اور ڈرون سمیت کچھ نئے آلات شامل کئے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ان میں سے کئی ہائی ٹیک آلات منگل کے روز پلوامہ میں ایک بینک گارڈ کے طور پر کام کرنے والے کشمیری پنڈت سنجے شرما کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ٹی آر ایف کے2ملی ٹنٹوںکے خلاف آپریشن میں استعمال ہوئے۔جے کے این ایس کے مطابق آئی جی سی پی آر ایف (کشمیر آپریشنز) ایم ایس بھاٹیہ نے کہاکہ منگل کے روز پدگام پورہ اونتی پورہ میں ملی ٹنٹ مخالف آپریشن کے دوران ایک کریٹیکل سیچویشن ریسپانس وہیکل (CSRV) کا استعمال کیاگیا جو بلٹ پروف ہے اور اسے کمرے میں مداخلت کیلئے یا گھر کے اندر چھپے ہوئے دشمن کو مشغول کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔انہوںنے کہاکہCSRV کا ٹرننگ ریڈیس یاحلقہ بہت کم ہے۔ آئی جی سی پی آر ایف آپریشنز کشمیرکاکہناتھاکہ یہ بلٹ پروف ہے اور دیواروں کوگرانے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔انہوںنے مزید کہاکہ ہمارے پاس بلٹ پروف جے سی بی بھی ہیں جو مقصد کے لحاظ سے ایک جیسے ہیں۔سی آرپی ایف کے آئی جی آپریشنز کشمیرنے کہاکہCSRV اور JCB کے پاس ایک بلٹ پروف کیبن ہے جو ایک فورک لفٹ پر حفاظتی عملے کے لئے نصب ہے تاکہ دشمن کے خلاف بغیر خطرے کے اونچائی کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔انہوںنے کہاکہ CSRV کیبن180 ڈگری تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہضثؓس میں بلٹ پروف کیبن کے اندر فوجیوں کیلئے360 ڈگری تحفظ ہوتا ہے۔سی آرپی ایف کے سینئرکمانڈر ایم ایس بھاتیہ نے کہا کہ ڈرون بھی مرکزی پولیس فورس کے ذریعے استعمال کئے جا رہے ہیں اور انہوں( ڈرون) نے وادی میں انسداد شورش کی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ ڈرون ایک ایسی چیز ہے جو ہمارے قافلوں کی نقل و حرکت کے دوران قومی شاہراہوں کی نگرانی کے لئے تیزی سے استعمال ہوتا ہے۔ ایم ایس بھاتیہ نے کہاکہ امرناتھ یاترا کے دوران بھی ڈرون کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم آپریشنل منظرناموں میں تصادم کے حالات کو تیار کرنے کیلئے ڈرون کا بھی استعمال کرتے ہیں، یہ دیکھنے کیلئے کہ دشمن کہاں چھپا ہوا ہے یا اسے بے اثر کر دیا گیا ہے یا نہیں۔ آئی جی سی پی آر ایف (کشمیر آپریشنز)نے کہاکہ وال تھرو ریڈار (WTR) اور ہاتھ سے پکڑے گئے تھرمل امیجرز (HHTI) دوسرے آلات ہیں جنہوں نے پیچیدہ آپریشنز میں جوانوں کے لئے خطرہ کم کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ HHTI بھی استعمال کیا جاتا ہے،اورہمارے پاس وہ ہر بٹالین میں ہیں، خاص طور پر جنوبی کشمیر میں جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے زیادہ متاثر ہے۔انہوںنے بتایاکہ تھرمل امیجرز (HHTI)جنگلوں اور ٹھکانوں کے قریب پہنچتے ہوئے بھی طاقت بڑھانے والے کے طور پر کام کر رہے ہیں۔انہوںنے مزید کہاکہ اندھیرے میں شوٹنگ کے دوران، اس سے صحیح توجہ جاننے میں مدد ملتی ہے۔ایم ایس بھاٹیہنے کہا کہ سی آر پی ایف نے کشمیر وادی میں2019 میں پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے بعد پوری قومی شاہراہ پر سی سی ٹی وی نگرانی جیسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے قومی شاہراہ پر 14 ناکے قائم کئے ہیں،اور سبھی سی سی ٹی وی کیمروں سے لیس ہیں اور افسران کے ذریعہ چوبیس گھنٹے فوٹیج کی جانچ اور تجزیہ کیا جاتا ہے۔سی آرپی ایف کے آئی جی آپریشنز کشمیرنے کہاکہ سی آر پی ایف کے زیر استعمال گاڑیوں کی بلٹ پروفنگ کا کام بڑے پیمانے پر لیا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے بڑے پیمانے پر بلٹ پروف گاڑیاں شروع کی ہیں،اور ہم نے وادی میں مائن پروف گاڑیاں اور درمیانے درجے کی بلٹ پروف گاڑیاں متعارف کرائی ہیں۔ایم ایس بھاٹیہ نے مزید کہاکہ وہ بھی ملٹی پلائر کی طرح کام کر رہے ہیں تاکہ ہمارے جوان محفوظ محسوس کریں۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وادی میں فورس کے ذریعہMP-5 رائفلز کا استعمال کیا گیا ہے، بھاٹیہ نے اثبات میں جواب دیا۔انہوںنے کہاکہ ہم نےMP-5 رائفلیں خریدی ہیں لیکن کچھ مخصوص حالات میں کچھ ہتھیاروں کا استعمال ہوتا ہے۔ لہذا MP-5ہتھیار یقینی طور پر وادی میں ہمارے پاس موجود ہیں لیکن صرف حالات کے لحاظ سے استعمال ہوتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم اپنی دوربین والی بندوقیں بھی استعمال کرتے ہیں لیکن وادی میں جو ہتھیار ہم استعمال کرتے ہیں وہ AK-47 ہے۔