ماہ فروری2023 میں رَش،ایک لاکھ سے زیادہ سیاح واردِ کشمیر

کشمیرکی سیاحتی صنعت کاسنہری دور:امسال80لاکھ ملکی وغیرملکی سیاح وارد

سری نگر// امسال کشمیرکی سیاحتی صنعت ایک نیا ریکارڈقائم کرنے کی دہلیز پرپہچ چکی ہے،کیونکہ جنوری سے تاایں دم تقریباً80لاکھ سیاح کشمیر واردہوچکے ہیں ،جن میں 95فیصد ملکی اورمحض5فیصد غیرملکی ہیں ۔محکمہ سیاحت کے حکام کواُمید ہے کہ سرمائی سیاحتی سیزن کی آمدتک کشمیر آنے والے سیاحوںکی تعداد ایک کروڑ کے جادوئی ہندسے کوچھوسکتی ہے۔جے کے این ایس کے مطابق محکمہ سیاحت کشمیر کے ذرائع نے بتایاکہ گزشتہ برس سرمائی سیاحتی سیزن کاآغاز حوصلہ افزاء اندازمیں ہوا ،اورماہ دسمبر 2021کی آخرتک لاکھوں ملکی اورغیرملکی سیاح کشمیر آئے ۔انہوںنے کہاکہ پھررواں سال ماہ جنوری سے ہی سیاحتی سیزن کامیاب رہا ،اورباغ گل لالہ (ٹولپ گارڈن) کوکھولے جانے نے سیاحتی سرگرمیوںکوایک نئی جلابخشی ۔ذرائع نے بتایاکہ ٹولپ گارڈن کانظارہ کرنے والے سیاحوںکی تعداد3لاکھ کے لگ بھگ تھی ،اوران سبھی سیاحوںنے کشمیرمیںکئی کئی دن اورکئی کئی ہفتے قیام کیا،جس دوران یہ سیاح گلمرگ ،پہلگام ،سونہ مرگ اوردوسرے سیاحتی وصحت افزاء مقامات دیکھنے بھی گئے ۔ذرائع کامزیدکہناتھاکہ باغ گل لالہ کوبندکرنے سے سیاحوںکی آمدمیں کوئی کمی نہیں آئی ،جسکی ایک وجہ بیرون ریاستوںمیں گرمی کی شدت بڑھ جانا،اورکشمیر سے لوٹے سیاحوںکااپنے آبائی علاقوںمیں کشمیر اورکشمیریوں سے متعلق مثبت پیغام دینا بھی تھا۔انہوںنے کہاکہ مثبت پیغام پہنچانے کیلئے محکمہ سیاحت نے کئی شہروں میں ریلیوں ،مباحثوں اورنمائشوں کااہتمام بھی کیا جبکہ کچھ خلیجی ممالک میں بھی اس نوعیت کے پروگرام منعقد کئے گئے ۔محکمہ سیاحت کے ایک افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پرکہاکہ سب کی ملی جلی محنت رنگ لائی ،جس میں محکمہ سیاحت ،سیاحتی صنعت سے جڑے مختلف طبقے اورٹوراینڈ ٹراولز کی نجی کمپنیاں بھی شامل ہیں ۔اس دوران ڈپٹی کمشنر اننت ناگ کے دفتری ذرائع نے سری نگرجموں شاہراہ پرقاضی گنڈ کے نزدیک کی جانے والی داخلہ رجسٹریشن کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ جنوری سے اب تک ریکارڈ 80 لاکھ سیاحوں نے کشمیر کا دورہ کیا ہے۔اننت ناگ کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر نے منگل کو ایک ٹویٹ میں کہا، کشمیر سیاحت کے سنہری دور کا مشاہدہ کر رہا ہے کیونکہ صرف پچھلے چند مہینوں میں80 لاکھ سیاح واردکشمیر ہوئے، جس نے گزشتہ 20 سالوں کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔تاہم، ٹویٹ میں درج کردہ اعداد و شمار رواں سال کے پہلے5 مہینوں میں وادی کا دورہ کرنے والے سیاحوں کی اصل تعداد سے بہت دور ہیں۔محکمہ سیاحت کے حکام کے مطابق اس سال کشمیر آنے والے سیاحوں کی تعداد9لاکھ سے زیادہ ہے اور توقع ہے کہ جون کے آخر تک یہ تعداد10 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔محکمہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’اگر ہم سیاحوں کے طور پر آنے والے لوگوں کے بارے میں خالصتاً بات کریں تو یکم جنوری سے31 مئی تک یہ تعداد9لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ وادی میں بنیادی ڈھانچہ ابھی اس سطح کا نہیں ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کو ایڈجسٹ کیا جا سکے۔انہوںنے کہاکہ ہم روزانہ اوسطاً 51000 سیاحوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ یہ وادی کے تمام ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز اور ہاؤس بوٹس کے بستر کی گنجائش سے کچھ زیادہ ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے رواں سال 9اپریل کوکہاتھاکہ کشمیر سیاحت کے محاذ پر ’سنہری دور‘کا مشاہدہ کر رہا ہے کیونکہ صرف پچھلے چند مہینوں میں 80 لاکھ سیاحوں نے وادی کا دورہ کیا ہے، جس نے پچھلے 20 سالوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔انہوںنے کہاتھاکہ ریکارڈ تعداد میں لوگ کشمیر کا دورہ کر رہے ہیں۔ یہ کشمیر کی تاریخ میں سیاحت کے محاذ پر ایک سنہری دور ہے اور ہمیں اس دور سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ منوج سنہاکاکہناتھاکہ فلائٹ آپریشنز نے بھی پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ آج تمام ہوٹل پہلے سے بک کرائے گئے ہیں اور ہندوستان کی دوسری ریاستوں کے لوگوں کو سری نگر کیلئے ہوائی ٹکٹ حاصل کرنا مشکل ہو رہا ہے۔دریں اثناء محکمہ سیاحت کے ذرائع نے بتایاکہ 30جون سے شروع ہونے والی 43روزہ سالانہ امرناتھ یاترا بھی سیاحتی سیزن کیلئے کافی مددگار اورمعاون ثابت ہوگی ،کیونکہ امسال ریکارڈ تعدادمیں یاتریوںکی آمد متوقع ہے اوران لاکھوںیاتریوںمیں سے بہت سارے یاترامکمل ہونے کے بعدکشمیرکے سیاحتی مقامات پر جانا پسند کریں گے ۔