سرینگر//فوجی سربراہ لیفٹنٹ جنرل ایم ایم نروانے نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان کے کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں اور اگر جارحیت کی گئی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فوج ایک حکمت عملی کے تحت کام کررہی ہے اور ہماری پہلی کوشش یہ ہے کہ لائن آف کنٹرول پر کسی بھی طرح کی دراندازی پر قابو پانا ہے اور اس میں فوج بڑی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ ند ا نیوز نیٹ ورک مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق دہلی میںمنعقدہ ایک تقریب کے دوران میڈیا نمائندوں کے سولات کا جواب دیتے ہوئے فوجی سربراہ لیفٹنٹ جنر ل منوج مکند نروانے نے کہا ہے کہ بھارتی فوج کے لئے کسی بھی جگہ کسی بھی طرح کوئی بھی کارروائی کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ نروانے کہا کہ فوج وادی کشمیرمیں فوج کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور بہت جلد وادی کشمیر جنگجوئوں سے پاک قراردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اس کے معاونین جو کشمیر میں موجود ہیں فوج کی کامیاب کارروائیوں سے بہت مایوس ہوچکے ہیں۔فوجی سربراہ کا کہنا ہے کہ فوج صرف ایک آواز پر کارروائی کرنے کیلئے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فوج ایک حکمت عملی کے تحت کام کررہی ہے اور ہماری پہلی کوشش یہ ہے کہ لائن آف کنٹرول پر کسی بھی طرح کی دراندازی پر قابو پانا ہے اور اس میں فوج بڑی حد تک کامیابی بھی ہوئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ دراندازی صفر تک پہنچ گئی ہے کیوں کہ سرحدوں پر تعینات فوج مستعد اور چوکس ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحدی پر ایسے آلات نصب کئے گئے ہیں جس سے دراندازی کی کوششیں ناکام بنائی جاتی ہے۔ نروانے نے کہا کہ نوجوانوں کی جانب سے بندوق اْٹھانے کے رجحان میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔ بندوق اْٹھانے کا مطلب موت کو گلے لگانے کے مترادف ہے۔ انہوںنے کشمیری نوجوانوں کے بارے میں کہاہے کہ کشمیری نوجوان کافی ذہین اور محنتی ہیں ان کو نہیں چاہئے کہ وہ کسی بہکاوے میں آکر ہتھیار یا پتھر اْٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ کشمیری نوجوان ریاست کی تعمیر و ترقی کیلئے اور امن کی فضاء قائم کرنے کیلئے مین سٹریم میں شامل ہوکر اپنا مستقبل سنواریں گے۔










