تعمیراتی ورثے کی بحالی، ثقافتی شناخت کو تقویت دینے اور سیاحتی امکانات کو فروغ دینے کی جانب اہم اقدام
سری نگر//حکومت جموںوکشمیر نے راجوری میں تاریخی لاہ ولی بائولی کی جامع بحالی اور تحفظ کے لئے 5.78 کروڑ روپے کی منظوری دِی ہے جو جموں و کشمیر کے شاندار تعمیراتی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی جانب ایک اور اہم قدم ہے۔تحفظاتی منصوبہ اس کے ثقافتی تشخص اور تاریخی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخی سٹیپ ویل او راس کی تعمیراتی خصوصیات کی بحالی پر توجہ مرکوز کرے گا۔ اس اَقدام کا مقصد اس مقام کے سیاحتی امکانات کو فروغ دینا اور اسے ضلع میں آنے والے سیاحوں کے لئے ایک اہم ثقافتی و تاریخی مرکز کے طور پر ترقی دینا بھی ہے۔یہ منظوری وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر بھر میں تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل مقامات کے تحفظ اور احیائے نو کے لئے جاری وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔حکومت نے حالیہ مہینوں میں جموں اور کشمیردونوں صوبوں میں ورثے کے تحفظ سے متعلق متعدد منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ ان میں ڈوڈہ کے بھدرواہ میں تاریخی رتن گڈھ قلعہ کی مرمت اور تزئین و آرائش، زیارت شریف کھیرم کی بحالی و تجدید و مرمت، بیج بہاڑہ کے تھاجیووارہ میں تاریخی شیو مندر کی مرمت و تزئین و آرائش اور سانبہ میں تاریخی ورثے کے مقام پُر منڈل کی بحالی اور احیائے نو شامل ہیں۔دیگر منظور شدہ منصوبوں میں سری نگر کے تاریخی امام باڑہ زڈی بل کا تحفظ اوراَپ گریڈیشن، پلوامہ کے یارون میں مقدس کھو صاحب چشمے کی ترقی، شوپیاں میں تاریخی جامع مسجد شریف کی بحالی اور رام بن میں عقیدت مندوں کے لئے اہم سروادھر چومنڈاماتا مندر کی بحالی شامل ہیں۔حکومت کا ہیرٹیج کنزرویشن پروگرام جموں و کشمیر کے تعمیراتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ ورثے کے مقامات کو خطے کے وسیع تر سیاحتی اور ثقافتی ترقیاتی ڈھانچے میں ضم کرنے کا خواہاں ہے۔لاہ ولی باؤلی کی بحالی سے راجوری میں اس تاریخی مقام کو ایک نئی شناخت ملنے کی توقع ہے جبکہ یہ مقامی سیاحت میں اضافے اور آنے والی نسلوں کے لئے خطے کے متنوع ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کی کوششوں کو تقویت دینے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔










