ٹورسٹ مقامات پر سی سی ٹی وی، مرکزی مانیٹرنگ اور ہنگامی رسپانس یونٹ لازمی بنانے کی تجویز
سرینگر//پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے امورِ داخلہ نے جموں و کشمیر کے تمام بڑے سیاحتی مقامات کیلئے ایک مربوط سکیورٹی اور نگرانی کا فریم ورک قائم کرنے کی سفارش کی ہے، جس کے تحت جامع سی سی ٹی وی کوریج، مرکزی مانیٹرنگ مراکز، باقاعدہ سکیورٹی آڈٹ اور کمزوریوں کا جائزہ لینے کا نظام وضع کیا جائے۔یو این ایس کے مطابق جموں و کشمیر اور لداخ میں انتظامی حکمرانی، سماجی و اقتصادی ترقی، سرحدی و داخلی سلامتی اور سرحدی انتظامات سے متعلق اپنی رپورٹ میں کمیٹی نے کہا کہ سیاحتی مقامات پر کسی بھی سکیورٹی واقعے سے نمٹنے کیلئے مختلف اداروں کے درمیان واضح معیاری طریقہ کارمرتب کئے جائیں اور ہر سیاحتی سیزن کے آغاز سے قبل ان کا جائزہ لیا جائے تاکہ ہنگامی صورتحال میں بروقت اور مربوط کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔کمیٹی کی یہ سفارش گزشتہ سال 22 اپریل کو پہلگام کی خوبصورت بائیسرن وادی میں سیاحوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جس میں زیادہ تر سیاحوں سمیت 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر میں سیاحوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس لئے سیاحتی مقامات پر سکیورٹی انتظامات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ کمیٹی کے مطابق سکیورٹی کا براہِ راست اثر سیاحوں کے تحفظ کے احساس، ان کے تجربے اور خطے میں سیاحت کے مسلسل فروغ پر پڑتا ہے۔پارلیمانی کمیٹی نے تمام بڑے اور زیادہ ہجوم والے سیاحتی مقامات پر مخصوص ہنگامی رسپانس یونٹس، مناسب سہولیات سے لیس ایمبولینسز، ٹراما کیئر مراکز اور واضح طور پر نشان زدہ انخلا کے راستے دستیاب رکھنے کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی نے سکیورٹی فورسز کی مجموعی تیاری اور انتظامات کو سراہتے ہوئے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بنیادی ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔کمیٹی نے مزید کہا کہ ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ مراکز اور دیگر سیاحتی سہولیات پر ہنگامی رابطہ نمبرز اور حفاظتی ہدایات نمایاں طور پر آویزاں کی جائیں اور یہ معلومات متعدد زبانوں میں دستیاب ہوں تاکہ ملک اور بیرونِ ملک سے آنے والے سیاح ضرورت کے وقت فوری مدد حاصل کر سکیں۔یو این ایس کے مطابق پارلیمانی کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ سیاحتی سیزن اور امرناتھ یاترا کے آغاز سے قبل مختلف سکیورٹی اداروں کی مشترکہ سکیورٹی آڈٹ اور خطرات کے جائزے باقاعدگی سے کئے جائیں، تاکہ ابھرتے ہوئے سکیورٹی خدشات کی بروقت نشاندہی کرکے ان کا تدارک کیا جا سکے۔کمیٹی نے 11 سے 15 مئی 2026 کے دوران جموں، سری نگر، گلمرگ، سونمرگ اور کرگل کا مطالعاتی دورہ کیا تھا۔ اس دوران کمیٹی نے گلمرگ میں سکیورٹی انتظامات کا موقع پر جائزہ لیا، سونمرگ میں جموں و کشمیر پولیس کے نمائندوں سے امن و قانون کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جبکہ کرگل میں بھارتی فوج کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران سرحدی سکیورٹی اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔لداخ کے حوالے سے کمیٹی نے جدید ہتھیاروں کے نظام، بغیر پائلٹ فضائی نظام کاؤنٹر ڈرون ٹیکنالوجی، جدید نگرانی کے آلات، خصوصی نقل و حرکت کے پلیٹ فارمز اور آل ٹیرین گاڑیوں کی شمولیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔کمیٹی نے لداخ کے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقوں میں مربوط انٹیلی جنس، نگرانی اور ریکانائسنس صلاحیتوں، کاؤنٹر ڈرون نظام، محفوظ مواصلاتی نیٹ ورکس اور مقامی طور پر تیار کردہ بلند پہاڑی علاقوں کی ٹیکنالوجی میں مسلسل سرمایہ کاری کی سفارش بھی کی۔ رپورٹ میں وزارتِ دفاع پر زور دیا گیا کہ ان نظاموں کی بروقت خریداری، تعیناتی اور جدید ٹیکنالوجی کے مطابق وقتاً فوقتاً اپ گریڈیشن یقینی بنائی جائے۔










