سیب صنعت کو ہوا نقصان قابل افسوس، جموں سرینگر شاہراہ کا اختیار مرکزی حکومت کے پاس /ناصر اسلم وانی
سرینگر/اے پی آئی// جموںوکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ ملاقات کرنے ، لوگوں کے مسائل حل کرنے ، ان کی نوٹس میں لانے والوں کو ہدف تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے مشیر نے کہا کہ ایک ایسا ماحول قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جموںوکشمیر کی منتخب سرکار کچھ نہیں کررہی ہے اور ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوچکی ہے ۔ڈوڈہ حلقے کے ممبر اسمبلی اپنے حلقے میں لوگوںکو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا چاہتے تھے جس پر ضلع انتظامیہ کے ساتھ ان کے اختلافات پیدا ہوگئے اور معاملہ پبلک سیفٹی ایکٹ پر جاپہنچا ۔ سیب صنعت کو ہوئے نقصان کی بھرپائی قابل افسوس ہے اور جموں سرینگر شاہراہ کی دیکھ ریکھ اور انتظام جموں وکشمیر سرکار کے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق فور شور روڑ کو کشادہ کرنے کے معاملے کا جائزہ لینے کے موقعہ پر ذرائع ابلاغ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے کہا کہ امن وامان اور دوسرے اہم معاملات جموں وکشمیر حکومت کے دائرے اختیار میں نہیں ہے اور مورد الزام جموں وکشمیر حکومت کو ٹھہرایا جاتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پولیس ، بیوروکریٹوں کی تبدیلیاں ، تقرریاں کے اختیارات لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہیں اور اسی طرح 320کلو میٹر جموں سرینگر شاہراہ کی دیکھ ریکھ اور اس کی مرمت ، دوسرے معاملات مرکزی حکومت کے ہاتھ میں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ سیب صنعت کو جو نقصان پہنچا وہ قابل افسوس ہے تاہم نیشنل کانفرنس کی سرکار چاہتی ہے کہ سیلاب اور موسلادھار بارشوں ، جموں سرینگر شاہراہ کے بند رہنے سے جو کسان ،باغ مالکان ، تاجر متاثر ہوئے ہیں انہیں معاوضہ ملنا چاہیے ۔انہوںنے مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کا لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ ملاقات کرنے ، عوامی مسائل اور حالیہ سیلاب سے ہوئی تباہی اور لوگوں کو معاوضہ فراہم کرنے کی بات اُن کی نوٹس میں لانے کی کارروائیوں کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا ماحول تیار کیا جارہا ہے کہ جموں وکشمیر کی منتخب سرکار ہر ایک محاذ پر ناکام ثابت ہوچکی ہے اورصرف لیفٹیننٹ گورنر ہی لوگوںکو معاوضہ فراہم کرنے ، ان کی باز آبادکاری اور انہیں راحت پہنچانے کیلئے اقدامات اٹھاسکتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کئی سیاسی پارٹیوں کو عوام نے مسترد کردیا ہے ۔ انہیں پانچ سال تک انتظار کرنا ہوگا ، نیشنل کانفرنس نے عوام کے ساتھ جو وعدے کئے ہیں انہیں عملی جامہ پہنایا جائے گا ۔انہوںنے کہا کہ ڈوڈہ حلقے کے ممبر اسمبلی کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرنا قانون کے منافی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ممبر اسمبلی اپنے لوگوں کیلئے طبی سہولیات بہم پہنچانا چاہتے تھے ۔ اس مسئلے پر ضلع انتظامیہ کے ساتھ ان کے اختلافات پیدا ہوئے اور نوبت پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنے پر پہنچی۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر نے ممبر اسمبلی کے طرز کلام کو بھی ناجائزٹھہراتے ہوئے کہا کہ مہذب دنیا میں اس طرح کی زبان استعمال کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔










