لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ سے ملاقات، ایل او سی اور امرناتھ یاترا کے حفاظتی انتظامات پر تبادلہ خیال
سرینگر//بھارتی فوج کے نئے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے دورہ کشمیر کے دوران وادی کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔ جنرل دھیرج سیٹھ 30 جون کو جنرل اوپیندر دویدی کی جگہ بھارتی فوج کے سربراہ مقرر ہوئے تھے۔یو این ایس کے مطابق جنرل سیٹھ منگل کی دوپہر نئی دہلی سے براہ راست سرینگر کے بادامی باغ چھاؤنی میں واقع 15 کور ہیڈکوارٹر پہنچے، جہاں انہیں جموں و کشمیر میں سکیورٹی کی موجودہ صورتحال، لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر تعیناتی، انسداد دراندازی کے انتظامات اور دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے بارے میں سینئر فوجی افسران نے تفصیلی بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں لائن آف کنٹرول پر سکیورٹی صورتحال، پاکستان کی جانب سے ممکنہ دراندازی کی کوششوں، دہشت گردی کے خلاف آپریشنز اور جنوبی کشمیر میں جاری سالانہ شری امرناتھ یاترا کے حفاظتی انتظامات پر خصوصی تبادلہ خیال کیا گیا۔ تاہم بھارتی فوج کی جانب سے آرمی چیف کے دورے کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔دورے کے دوران آرمی چیف نے راج بھون میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی۔ سرکاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر چنار کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل بلبیر سنگھ بھی موجود تھے۔جنرل دھیرج سیٹھ نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے انہیں بھارتی فوج کے سربراہ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق آرمی چیف آج ادھم پور میں واقع شمالی کمان کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کریں گے، جہاں انہیں جموں و کشمیر کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر اعلیٰ سطحی بریفنگ دی جائے گی۔یو این ایس کے مطابق فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ 3 جولائی سے شروع ہونے والی 57 روزہ شری امرناتھ یاترا کے دوران بھارتی فوج اہم حفاظتی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔ غارِ امرناتھ کے اطراف حساس پہاڑی چوٹیوں اور دیگر کمزور مقامات پر فوجی دستے تعینات ہیں تاکہ یاترا کو محفوظ بنایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق آرمی چیف کو لائن آف کنٹرول پر فوجی فارمیشنز، تعیناتیوں اور انسداد دراندازی گرڈ کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔ فوج نے سرحد پر ہائی الرٹ برقرار رکھا ہوا ہے تاکہ پاکستان کی جانب سے ممکنہ دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ادھر فوج نے بالائی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔ شوپیان، راجوری اور جموں و کشمیر کے دیگر پہاڑی علاقوں میں مشتبہ دہشت گردوں کی موجودگی کے پیش نظر تلاشی اور محاصرے کی کارروائیاں جاری ہیں۔یو این ایس کے مطابق واضح رہے کہ چند روز قبل نئے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنیم نے بھی جموں و کشمیر کا تین روزہ دورہ کیا تھا، جس کے دوران انہوں نے ادھم پور میں شمالی کمان، نگروٹہ کور، سرینگر کور اور لائن آف کنٹرول کے اگلے مورچوں کا دورہ کرکے سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا تھا۔سالانہ شری امرناتھ یاترا بدستور پرامن طریقے سے جاری ہے اور پہلے پانچ دنوں کے دوران ایک لاکھ 17 ہزار سے زائد یاتری مقدس برفانی شِولنگ کے درشن کر چکے ہیں۔ یاترا 28 اگست کو شراون پورنیما اور رکشا بندھن کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔










