آپریشن پانچویں روز بھی جاری، ایک اور عسکریت پسند کے پھنسے ہونے کا دعویٰ
سرینگر// جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جاری تصادم میں لشکرِ طیبہ سے وابستہ ایک مبینہ کمانڈر ہلاک ہوگیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے کی شناخت ذاکر احمد گنائی کے طور پر ہوئی ہے، جو کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ سے منسلک تھا۔پولیس کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 3 جولائی کو شوپیان کے میمندر علاقے کے گھنے باغات میں تلاشی آپریشن شروع کیا تھا، جو گزشتہ پانچ روز سے جاری ہے۔یو این ایس کے مطابق جموں و کشمیر پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ خصوصی آپریشن گروپ شوپیان، فوج کی راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف کی مشترکہ کارروائی میں ایک لشکر عسکریت پسند کو ہلاک کیا گیا۔ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق ہلاک ہونے والے کی شناخت ذاکر احمد گنائی (26) ساکن موٹلہامہ، ضلع کولگام کے طور پر ہوئی ہے، جسے پولیس نے لشکرِ طیبہ کا خود ساختہ کمانڈر قرار دیا۔پولیس کے مطابق ذاکر احمدگنائی 27 ستمبر 2023 کو شٹرنگ کے کام کے سلسلے میں گھر سے نکلا تھا لیکن واپس نہیں لوٹا، جس کے بعد اہل خانہ نے تلاش کے باوجود اس کا سراغ نہ ملنے پر 3 اکتوبر 2023 کو کولگام پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔حکام کا دعویٰ ہے کہ بعد میں اس نے دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف)، جو لشکرِ طیبہ سے منسلک ایک تنظیم سمجھی جاتی ہے، میں شمولیت اختیار کی تھی۔ پولیس کے مطابق اس کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت مقدمہ بھی درج تھا۔سکیورٹی حکام کے مطابق 3 جولائی کو نگرانی کے کیمروں کے ذریعے میمندر کے باغات میں دو عسکریت پسندوں کی موجودگی کا پتہ چلا تھا، جس کے بعد پولیس، فوج کی 55 اور 44 راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف نے علاقے کا سخت محاصرہ کر لیا۔یو این ایس کے مطابق حکام نے بتایا کہ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا، جبکہ فوج کی وکٹر فورس نے باغات کے اطراف اضافی نفری تعینات کر کے ممکنہ فرار کے تمام راستوں کو بند کر دیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ گھنے درختوں اور سبزہ زار کی وجہ سے نگرانی میں مشکلات پیش آتی ہیں، جس سے محصور عسکریت پسند فرار ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔حکام کے مطابق ذاکر احمدگنائی کے علاوہ ایک اور عسکریت پسند، جس کی شناخت لطیف کے نام سے کی جا رہی ہے اور جس کے گزشتہ سال تنظیم میں شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، اب بھی علاقے میں محصور ہونے کا شبہ ہے۔ تاہم اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔










