شدید گرمی میں وادی بھر میں بجلی کا بحران، غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے عوام پریشان

اسمارٹ میٹروں کے باوجود بجلی کی فراہمی میں بہتری نہ آنے پر صارفین برہم

سرینگر//کشمیر میں رواں موسم گرما کے دوران کئی برسوں کی بدترین بجلی بندش کا سامنا ہے، جہاں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رہنے سے عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ شدید گرمی کی لہر کے دوران بجلی کی طویل بندشوں نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، جبکہ صارفین نے کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ کی جانب سے بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب سے نمٹنے کی تیاریوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔یو این ایس کے مطابق شہر سرینگر اور اس کے مضافاتی علاقوں بشمول مائسمہ، سعیدہ کدل، بمنہ، زونی مر، سعید پورہ، نور باغ، صفا کدل، باغِ مہتاب،خانیار،رعناواری، آلوچی باغ، نوا کدل، راجوری کدل، صورہ، الٰہی باغ، بٹہ مالو، قمر واری،بٹوارہ، ایچ ایم ٹی، پارمپورہ، جواہر نگر، راجباغ، پانپورور دیگر علاقوں کے رہائشیوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے غیر اعلانیہ بجلی بندشوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث شدید گرمی میں لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ بجلی کی فراہمی خاص طور پر شام اور دن کے مصروف اوقات میں بار بار معطل ہو جاتی ہے، جس کے باعث پنکھے، کولر اور دیگر ضروری برقی آلات استعمال نہیں ہو پاتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے باوجود بجلی کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ کئی علاقوں میں حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے ہیں۔رہائشیوں نے الزام لگایا کہ جن علاقوں میں اسمارٹ میٹر نصب کیے گئے ہیں وہاں بھی بجلی کی بندشیں غیر میٹر والے علاقوں کی طرح جاری ہیں، جبکہ بعض مقامات پر کیبلنگ کا کام مکمل نہ ہونے کے باعث بجلی مزید طویل عرصے تک معطل رہتی ہے۔خانیار کے رہائشی غلام قادر بابا نے کہا کہ وہ ہر ماہ دو سے ڈھائی ہزار روپے تک بجلی کا بل ادا کرتے ہیں، تاہم شدید گرمی کے دوران بجلی کی فراہمی مزید خراب ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹھ ماہ قبل اسمارٹ میٹر نصب کیے گئے تھے لیکن دن کے وقت مسلسل بجلی میسر نہیں آتی۔یو این ایس کے مطابق مائسمہ کے دکاندار طاہر احمد نے کہا کہ بار بار بجلی بند ہونے سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے، خصوصاً ایسے کام جن کا انحصار مکمل طور پر بجلی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے وقت بہتر بجلی فراہمی کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر صورتحال پہلے سے زیادہ خراب ہے۔بمنہ کے رہائشی محمد اشرف نے الزام لگایا کہ محکمہ کی توجہ صرف بل وصول کرنے پر مرکوز ہے جبکہ صارفین کو معیاری بجلی فراہم نہیں کی جا رہی۔ زونی مر کے جاوید احمد نے کہا کہ بجلی مختصر وقفوں کے لیے آتی ہے اور ترقیاتی و مرمتی کاموں کے باعث بھی اکثر سپلائی معطل رہتی ہے، جس سے شدید گرمی میں عوام کی مشکلات کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔یو این ایس کے مطابق شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی مسلسل بندش سے بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ گھریلو امور اور چھوٹے کاروبار بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اسمارٹ میٹر منصوبے اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے دعوؤں کے باوجود صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔ادھر محکمہ بجلی کے مالیاتی کمشنر (ایڈیشنل چیف سیکرٹری) اشونی کمار نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل بجلی کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوئی تھی جس کی بنیادی وجہ پن بجلی منصوبوں میں پانی کی کمی اور موسم سرما کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاور بینکنگ انتظامات تھے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں کے بعد صورتحال معمول پر آچکی ہے اور اگر کہیں بجلی بند ہے تو وہ صرف مقامی سطح پر جاری مرمتی کاموں کی وجہ سے ہے۔