کربلا پہنچا آیت اللہ خامنہ ای کا جنازہ

کربلا پہنچا آیت اللہ خامنہ ای کا جنازہ

کربلا/یو این آئی// ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جنازہ چہارشنبہ کی شام عراق کے شہر کربلا پہنچا۔ اس سے قبل مقدس شہر نجف میں حضرت امام علی کے مزار پر ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جس میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے ۔ عراق کے یہ دونوں شہر شیعہ فرقے کیلئے خاص مذہبی اہمیت کے حامل ہیں، اس لیے آیت اللہ خامنہ ای کے آخری سفر کو ایران کے ساتھ ساتھ ان شہروں سے بھی گزارا گیا۔ نجف میں آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ کی امامت آیت اللہ محمد تقی الحکیم نے کی۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق، کربلا میں شیخ عبدالمہدی الکربلائی امام حسین کے مزار پر آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ پڑھائیں گے ۔اس کے بعد جنازے کو سید جودہ چوراہے سے المحافظہ اسٹریٹ ہوتے ہوئے امام حسینؓ اور حضرت عباسؓ کے مزار پر لے جایا جائے گا۔ شیعہ برادری کے سب سے بڑے رہنما کا یہ آخری سفر اب کربلا سے ہوتے ہوئے ان کے آبائی شہر ایران کے مشہد جائے گا۔ یہاں امام رضا کی قبر کے پاس جمعرات کو انہیں سپرد خاک کیا جائے گا۔ عراق میں آیت اللہ خامنہ ای کا آخری سفر نجف شہر میں لاکھوں لوگوں کے درمیان شروع ہوا۔ سخت سکیورٹی کے دوران جنازے میں کئی سینئر سیاسی اور مذہبی شخصیات بھی شریک ہوئیں۔ عراقی نیوز ایجنسی کے مطابق، جنازہ علی الصبح چھ بجے شروع ہوا، جس میں ملک بھر سے غمزدہ لوگ شامل ہوئے ۔اس سے قبل، آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے آنجہانی اہل خانہ کے جسد خاکی منگل کی رات نجف بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچے ۔ ایران کے صدر مسعود پزیشکیان اور سینئر ایرانی حکام کا ایک وفد بھی جنازے میں شرکت کیلئے عراق پہنچ چکا تھا۔ اس سرکاری تقریب میں عراقی وزیر اعظم علی الزیدی، صدر پزیشکیان، ایرانی وفد کے ارکین اور عراق کی اہم سیاسی، مذہبی اور قبائلی شخصیات شریک ہوئیں۔ موجودہ لوگوں میں نوری المالکی، ہادی العامری، قیس الخزعلی، عمار الحکیم اور محمد الحلبوسی شامل تھے ۔