لواحقین کا زور دار احتجاج ، ملوث ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کرکے انصاف کا کیا مطالبہ
سرینگر //پلوامہ کے رکھ لیتر علاقے میں ایک خاندان پر اس وقت قیامت کے ٹوٹ پڑے جب شادی کے محض ایک سال بعد بچی کو جنم دینے کے بعد اسپتال میں خاتون کی موت واقع ہوئی ۔ خاتون کی موت کے بعد لواحقین نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹروں کی لاپروائی سے جواں سالہ خاتون کی جان چلی گئیں اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملوثین کے خلاف کاروائی کی جائے ۔ سی این آئی کے مطابق پلوامہ کے رکھ لیتر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی موت ہوئی ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ درد زدہ میں مبتلا انیسہ زوجہ فیروز احمد میر ساکنہ رکھ لیتر نامی خاتون کو ضلع اسپتال پلوامہ پہنچایا گیا جہاں جراحی کے دوران خاتون نے ایک بچی کو جنم دیا ۔ بچی کو جنم دینے کے بعد خاتون نے در د کی شکایت کی جس کے بعد ڈاکٹروں نے اسے سرینگر کے لل دید اسپتال منتقل کیا ۔بتایا جاتا ہے کہ لل دید اسپتال سرینگر پہنچ جانے کے ساتھ ہی جب خاتون کا وہاں معائینہ کیا گیا تو ڈاکٹروں نے لواحقین کو بتایا کہ خاتون پہلے سے ہی موت کی آغوش میں چلی گئی ہے ۔ ادھر خاتون کے موت کے ساتھ ہی لواحقین نے اسپتال کے باہر زور دار احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ضلع اسپتال پلوامہ میں ڈاکٹروں کی لاپروائی کے نتیجے میں خاتون کی موت ہوئی ہے ۔ احتجاج میں شامل لواحقین نے کہا ’’بچی کو جنم دینے کے بعد ماں نے درد کی شکایت کی جس کے بعد ہم نے ضلع اسپتال پلوامہ میں تعینات ڈاکٹروں سے درخواست کی کہ ان کا معائنہ کیا جائے تاہم ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ معمول سے بات ہے ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں جب درد بڑے لگنے تو 3بجکر 30منٹ پر ڈاکٹروں نے انیسہ کو لل دید اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا ۔ انہوں نے کہا ’’ جب ہم لل دید اسپتال سرینگر پہنچ گئے تو وہاں موجود ڈاکٹروں نے ہمیں کہا کہ خاتون 90فیصدی موت کی آغوش میں چلی گئی ہے اور بعد میں کچھ دیر بعد ہمیں بتایا گیا کہ خاتون دم توڑ بیٹھی ہے ‘‘۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈاکٹروں کو بتانے کے باوجود کہ مریض کو شدید درد ہے، انہوں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ جس سے اس کی جان چلی گئیں ۔ لواحقین نے ضلع اسپتال پلوامہ کے خلاف زور دار احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہاں لاپروائی نے مریضہ کی جان لی اور مطالبہ کیا کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے اور ملوث ڈاکٹروں کے خلاف کارورائی کی جائے ۔ دریں اثناء میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ضلع اسپتال پلوامہ ڈاکٹر اے جی ڈار نے بتایا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں گے اور ریفرل اور موت کی وجہ بھی معلوم کریں گے۔خیال رہے کہ خاتون کی شادی گزشتہ شال ماہ اکتوبر میں ہوئی تھی اور ان کا پہلا ہی بچہ تھا ۔










