ڈائریکٹر جنرل امپارڈ نے دو تربیتی کورسوں کے اِختتامی تقریب کی صدارت کی

سری نگر//ڈائریکٹر جنرل جموںوکشمیر اِنسٹی چیوٹ آف مینجمنٹ پبلک ایڈمنسٹریشن اینڈ رورل ڈیولپمنٹ ( امپارڈ) سوربھ بھگت نے امپارڈ سری نگر میں دو تربیتی کورسوں کی اِختتامی تقریب کی صدارت کی۔ان میں ’’ آفت کے بعد کی تعمیر نو او ربحالی ‘‘ موضوع پر تین روزہ تربیتی کورس ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر جی ایم ڈارتعاون سے اور ’’ عوامی شکایات کاا زالے ‘‘ عنوان پرایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر خورشید الاسلام کے تعاون سے دو روزہ اورنٹیشن ٹریننگ کورس شامل ہیں۔اِس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے سوربھ بھگت نے کہا کہ پہلے شکایات کے ازالے کا طریقۂ کار تحریری شکایات پر مشتمل ہوتا تھا جس کا مختلف وجوہات کی بنا پر بہت کم جواب ملتا تھا ۔ اُنہوں نے کہا کہ ’’ ایل جی ملاقات‘‘ پروگرام (2021ء ) کے تحت جے کے جی آر اے ایم ایس ( جے اینڈ کے مربوط شکایتی ازالے اور نگرانی نظام)کے آغاز کے بعد سے اَب صورتحال بد ل گئی ہے جس میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموںوکشمیر یوٹی کے تمام محکموں کو بروقت یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اور شکایات کا معیاری نمٹانا جس کے لئے مناسب ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جانا چاہئے تاکہ شکایتی ازالہ نظام میں اِنسانی مداخلت کو زیادہ سے زیادہ حد تک ختم کیا جائے اور مناسب وقت میں شکایت کا ازالہ کیا جائے ۔ اِس سلسلے میں تمام محکموں کے لئے ایک مربوط شکایتی پورٹل ( جے کے آئی جی آر اے ایم ایس) پر آن لائن شکایات جمع کرنا ایک کامیابی کی داستان رقم ہوئی ہے اور عام آدمی زیادہ مطمئن ہو اہے۔سوربھ بھگت نے شرکأ کو مطلع کیا کہ جموںوکشمیر امپارڈ نے مختلف محکموں کے 20ہزار نوڈل اَفسران کی استعداد کار بڑھانے کے لئے پروگراموں کی ایک جامع سیریز شروع کی ہے تاکہ جے کے جی آر اے ایم ایس سے شکایات کے ازالے کی کامیابی کی داستان کو برقرار رکھا جاسکے۔ڈائریکٹر امپارڈ نے آفات کے بعد کی تعمیر نو او ربحالی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ایک ڈیزاسٹر کا شکار ملک ہے اور اس کے تمام پہلوئوں میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکومت کے ساتھ ایک ترجیح ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ عوام اور حکومتی اَفسران کا فرض ہے کہ وہ جب بھی آفات آئیں تو اس کا تدارک کرنے کے لئے تیاررہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ آفات کے بعد ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اہلکاروں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ آفات سے متاثرہ آبادیوں کو فوری ریلیف فراہم کریں، زیادہ سے زیادہ جانیں بچائیں اور پھر تعمیر نو کے پروگراموں سے ان کی بحالی کریں۔بحالی او رتعمیر نو کے پروگراموں میں برسوں لگ سکتے ہیں لیکن مسلسل کوششیں ہمیشہ منافع بخش ہوتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر امپارڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی کوششوں میں سب سے آگے رہا ہے جس میں وہ مسلسل سرکاری کاموں کی تربیت کرتا ہے اور آفات سے نمٹنے کے طریقہ کے بارے میں تیار کرتا ہے۔