تین عدم شناخت ملی ٹنٹ از جاں ، اسلحہ بھی بر آمد ، آپریشن جاری
سرینگر // شمالی ضلع بارہمولہ کے چیک ٹاپر پٹن علاقے میں فوج و فورسز اور جنگجوئوںکے مابین مسلح تصادم آرائی میں تین ملی ٹنٹ از جاں ہو گئے ۔ ادھر کشتواڑ کے چھترو بیلٹ پننل دوگڈا جنگلات میں ملی ٹنٹ حملے میں آفیسر سمیت دو فوجی اہلکار وں کی ہلاکت کے بعد آپریشن دوسرے روز بھی جاری رہا ۔ سی این آئی کے مطابق چیک تاپر پٹن علاقے میں ملی ٹنٹوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج ، سی آر پی ایف اور جموں کشمیر پولیس نے جمعہ کی شام دیر گئیعلاقے کو محاصرہ میں لیکر تلاشی کارروائی شروع کردی۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جونہی علاقے میں سیکورٹی فورسز نے تلاشی آپریشن شروع کردیا تو وہاں چھپے بیٹھنے عسکریت پسندوں نے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی علاقے میں جھڑپ شروع ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اسی دوران فورسز کی اضافی کمک علاقے کی جانب روانہ کی گئی جنہوں نے پورے علاقے کو سیل کر دیا اور جنگجوئوںکے فرار ہونے کے تمام راستے سیل کر دئے گئے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی فائرنگ اور رات دیر ہونے کے بعد آپریشن سنیچروار کی صبح تک ملتوی کر دیا گیا اور جونہی صبح سورج کی پہلی کرن چھا گئی تو وہاں آپریشن دوبارہ بحال ہو گیا اور فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میںکچھ وقت تک گولی باری ہوئی جس کے ساتھ ہی علاقے میں خاموشی چھا گئی ۔جس کے بعد علاقے میں ایک مرتبہ پھر گولیوں کا تبادلہ ہوا اور علاقے میںکچھ وقت تک گولیوں کا تبادلہ جاری رہنے کے بعد جونہی خاموشی چھا گئی تو سیکورٹی فورسز نے جھڑپ کے مقام سے تین ملی ٹنٹوںکی نعشیں بر آمد کر لی ۔ پولیس نے جھڑپ میں تین ملی ٹنٹوںکی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں آپریشن جاری ہے ۔ پولیس ترجمان نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حفاظتی عملے کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ ملی ٹینٹ علاقے میں چھپے بیٹھے ہیں تو پولیس اور سیکورٹی فورسز نے مشترکہ طورپر فوراً اس علاقے کو محاصرے میں لے لیا اور انہیں ڈھونڈ نکالنے کے لئے کارروائی شروع ہوئی ۔ا نہوں نے بتایا کہ فرار ہونے کے تمام راستے مسدود پا کر ملی ٹینٹوں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی چنانچہ سیکورٹی فورسز نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز ہوا اور کچھ وقت تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہنے کے دوران تین ملی ٹنٹ مارے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ملی ٹنتوں کی نعشیں بر آمد کر لی گئی ہے اور ان کی تنظیم اور شناخت کرنے کیلئے کارورائی جاری ہے ۔










