بیجنگ: چین نے امریکا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے مقابلے پر ایشیاء میں سب سے بڑی آپٹیکل ٹیلی اسکوپ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔بیجنگ کی پیکنگ یونیورسٹی کے اس منصوبے میں 2024 تک ایک ایسی زمینی ٹیلی اسکوپ تعمیر کی جائے گی جو 19.7 فِٹ تک پھیلی ہوئی ہوگی اور 2030 تک یہ وسعت بڑھ کر 26.2فٹ ہوجائے گی۔ اس مشن کا ایکسپینڈنگ اپرچر سیگمینٹڈ ٹیلی اسکوپ (EAST) ہے۔اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں 19.7 فٹ بڑا ایک آئینہ بنایا جائے گا جو 18شش پہلو آئینوں سے جڑ کر بنے گا۔پیکنگ یونیورسٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ ٹیلی اسکوپ چین کے آپٹیکل فلکیات کے مشاہدے کی صلاحیتوں میں زبردست اضافہ کرے گا۔زمین سے کم و بیش 15 لاکھ کلومیٹر فاصلے پر موجود جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے برعکس یہ ٹیلی اسکوپ 13ہزار 800فٹ کی بلندی پر تبت کے سطح مرتفع پر سائشی ٹینگ پہاڑی پر تعمیر کی جائے گی۔منصوبے کے دوسرے مرحلے میں 18 مزید شش پہلو ٹکڑوں سے بنایا گیا ایک اور چھلہ ٹیلی اسکوپ میں جوڑا جائے گا جس سے اس کا قطر 2030 تک بڑھ کر 26.2 فٹ تک پہنچ جائے گا۔مقامی خبر رساں ذرائع کے مطابق اس منصوبے پر 50 سے 60 کروڑ یوان (7 سے 8 کروڑ ڈالرز) لاگت متوقع ہے۔
بنگلہ دیشی حافظ نورالدین زکریا عالمی قرآن مقابلے میں اول، انعامات کی بارش
ایران کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کارروائی کا آغاز
ہندوستان اور روس کے درمیان اقتصادی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا: جے شنکر کی پوتن سے ملاقات
چین کی مددکے بغیر ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنا ممکن نہیں:نیویارک ٹائمز
کینیڈا ہماری ریاست بنے بغیر تمام فوائد چاہتا ہے:ٹرمپ
ایرانی ہیکرز کے برطانوی پاور پلانٹ پر اپنی نوعیت کےپہلے سائبر حملے کا انکشاف، پلانٹ 4 روز تک بند رہا
یشسوی جیسوال اور اسیتھافرنانڈو پر میچ فیس کا ۲۵فیصد جرمانہ
بجلی کی شرحوں میں اضافے کا فیصلہ ہماری مجبوری تھی
تازہ دھمکی آمیز پوسٹر کے بعد کشمیری پنڈت ملازمین کا سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ
ہائی کورٹ کا جموں و کشمیر حکومت سے آبی ذخائر کے تحفظ پر جواب طلب










